پتھر کی لڑکی

F@rzana — مارچ 27، 2006 9:16 شام
پتھر کی لڑکی
۔ ۔ ۔
اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی
تو اپنے پیکر کی سبز رت پر
بہت سی کائی اگایا کرتی
بہت سے تاریک خواب بنتی
تو میں اذیت کی ملگجی انگنت اداسی کے رنگ چنتی
اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی
میں اپنے پلو میں سوگ باندھے
کسی کو اس کا پتہ نہ دیتی
اجالے کو ٹھوکروں میں رکھتی
خموشیوں کے ببول چنتی
سماعتوں‌کے تمام افسون
میں پاش کرتی
میں کچھ نہ سنتی
دہکتی کرنوں کا جھرنا ہوتی
سفر کے ہر ایک مرحلے پر
میں رہزنوں کی طرح مکرتی
وہم اگاتی، گمان رکھتی
تمہاری ساری وجاہتوں کو
میں سو طرح پارہ پارہ کرتی
نہ تم کو یوں‌آئینہ بناتی
اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی!!!
نیناں
فرذوق احمد — مارچ 28، 2006 12:12 شام
بہت اچھی لگی یہ نظم ۔۔۔۔۔۔ مگر کس کی لکھی ہوئی ہے یہ نظم
مجھے تو لگتا ہے نوشی گیلانی صاحبہ کی ہے
F@rzana — مارچ 28، 2006 1:52 شام
آم کھائیے
ٍٍٍٍفرذوق، آپ آم کھائیے پیڑ گن کے کیا کریں گے، البتہ یہ نظم نوشی کی نہیں ہے۔۔۔۔
نظم کی پسندیدگی کے لئے شکریہ۔
فرذوق احمد — مارچ 28، 2006 2:26 شام
صحیح بات ہے ۔۔پیڑ گننا کون سی آسان بات ہے ،،
ایک عمر چاہیں ہجرِ وصال کے لیے :lol:
F@rzana — مارچ 28، 2006 2:32 شام
دو دو چار
لیں جی یہاں بھی دو دو چار سے پیچھا نہیں چھوٹا۔۔۔۔
بقول شاعر:
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
اب بیٹھے وصال صنم کے انتظار میں عمر کاٹتے رہیئے :lol:
فرذوق احمد — مارچ 29، 2006 7:23 صبح
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کیا خوب شعر سنایا ہے آپی جی آپ نے
بالکل صحیح کہاں آپ نے
ان کو خدا ملے ہے خدا کی جنہیں تلاش مجھ کو بس اِک جھلک میرے دلدار کی ملے :p
امیداورمحبت — اپریل 12، 2006 8:16 صبح
اچھی نظم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
F@rzana — اپریل 13، 2006 3:15 شام
۔
امید اور محبت، کیا خوب امتزاج ہے،
پسندیدگی کے لئے شکریہ!
قیصرانی — مئی 5، 2006 11:39 شام
اگر میں اس نظم کو سمجھ کر بات کروں(جو کہ کسی حد تک میں سمجھے بیٹھا ہوں) تو بے اختیار آنکھوں‌میں‌آنسو آ جائیں گے(جو کہ ابھی بھی موجود ہیں)۔ پتا نہیں کہ نیناں صاحبہ نے اتنی اچھی نظمیں‌لکھنا کہاں سے سیکھی؟
اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی
اس موقع پر کہا گیا ہے اور خوب کہا گیا ہے
کچھ بھی نہ کہا، کچھ کہ بھی گئے
ہم کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
قیصرانی
F@rzana — مئی 6، 2006 6:38 شام
قیصرانی۔۔۔۔۔ میں نے آپ کاجواب پڑھ لیا ہے اور فی الوقت میری آنکھوں کو آپ نے بھی کانچ کی نازک بوندوں سے بھر دیا ہے،نظم‘ کی گہرائی میں آپ اتر چکے ہیں بڑی بات ہے بڑی بات۔۔۔۔۔شکریہ
۔
۔
قیصرانی — مئی 6، 2006 6:54 شام
بس جی، بڑے آدمی، بڑی باتیں۔۔۔ اب اور کیا کہوں‌ :wink:
قیصرانی
تیشہ — مئی 7، 2006 10:12 شام
خوب ،
قیصرانی — مئی 7، 2006 10:19 شام
دو دو چار
F@rzana نے کہا:
لیں جی یہاں بھی دو دو چار سے پیچھا نہیں چھوٹا۔۔۔۔
بقول شاعر:
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
اب بیٹھے وصال صنم کے انتظار میں عمر کاٹتے رہیئے :lol:
میرا ایک جونئیر لڑکا تھا اس کا نام تھا عمر دراز۔ اس کی فولنگ کرنے کےلئے میں‌نے اپنی کلاس فیلوز لڑکیوں کو یہی سکھایا تھا کہ جب بھی وہ ملے، گا کرکہیں کہ
عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن کے لئے(عمر اور دراز کو الگ الگ پڑھیں)
بس مت پوچھیں کہ چار ہی دن میں‌اس بیچارے کے ساتھ کیا کیا گذری۔
نوٹ:‌میں‌اس طرح کے کاموں میں اپنے کالج میں لیڈر تھا۔
بے بی ہاتھی
F@rzana — مئی 8، 2006 1:44 صبح
ایسے کاموں میں لیڈر
کیسے کاموں میں؟
(نہ بھی بتائیں تو سب کو اندازہ ہوچکا ہے)
قیصرانی — مئی 8، 2006 4:11 شام
فرزانہ جی، آداب عرض ہے۔ ویسے پسندیدگی کا شکریہ۔
بے بی ہاتھی
قیصرانی — مئی 10، 2006 9:47 شام
لیں جی، فرزانہ صاحبہ اب پھر ایک بار لمبی گم ہو گئی ہیں۔ کوشش کریں کہ اس محفل کو رونق بخشتی رہا کریں۔
بے بی ہاتھی
مغزل — مارچ 29، 2012 9:08 صبح
سبحان اللہ سبحان اللہ ، کیا کہنے فرزانہ بہن کیا عمدہ نظم ہے دلی مبارکباد قبول کیجے ۔۔ روح سرشامندہ تھی سرشار کردی آپ کی نظم نے ۔۔۔
محسن وقار علی — فروری 18، 2013 11:06 صبح
بہت ہی خوبصورت نظم ہے
داد قبول کیجیے:applause::applause::applause::applause:
مہ جبین — فروری 20، 2013 5:18 صبح
بہت خوب نظم ہے واہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C.1715/