پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا

راحیل فاروق — جنوری 28، 2017 12:33 صبح
پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا
عشق نے خاص تو کیا عام بھی رہنے نہ دیا
ہائے ری گردشِ ایام کہ اب کے تو نے
شکوۂِ گردشِ ایام بھی رہنے نہ دیا
آخرِ کار پکارا اسے ظالم کہہ کر
درد نے دوست کا اکرام بھی رہنے نہ دیا
کوئی کیوں آئے گا دوبارہ تری جنت میں
دانہ بھی چھین لیا، دام بھی رہنے نہ دیا
عیش میں پہلے کہاں اپنی بسر ہوتی تھی
یاد نے دو گھڑی آرام بھی رہنے نہ دیا
دل کو آوارگیاں دور بہت چھوڑ آئیں
ذکرِ خیر ایک طرف، نام بھی رہنے نہ دیا
وہی زنجیر ہے تیرے بھی گلے میں راحیلؔ
جس نے سورج کو لبِ بام بھی رہنے نہ دیا
راحیلؔ فاروق
۲۸ جنوری ۲۰۱۷ء
محمد تابش صدیقی — جنوری 28، 2017 1:43 صبح
بہت خوب راحیل بھائی.
ہائے ری گردشِ ایام کہ اب کے تو نے
شکوۂِ گردشِ ایام بھی رہنے نہ دیا

عیش میں پہلے کہاں اپنی بسر ہوتی تھی
یاد نے دو گھڑی آرام بھی رہنے نہ دیا
فہد اشرف — جنوری 28، 2017 2:08 صبح
کیا ہی لاجواب غزل ہے، بہت خوب راحیل بھائی
آخرِ کار پکارا اسے ظالم کہہ کر
درد نے دوست کا اکرام بھی رہنے نہ دیا
ظہیراحمدظہیر — جنوری 28، 2017 3:50 صبح
کیا بات ہے راحیل بھائی!! بہت ہی اعلی!! اولین دو اشعار تو لاجواب ہیں! خصوصا مطلع بہت ہی جاندار ہے !
پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا​
عشق نے خاص تو کیا عام بھی رہنے نہ دیا
بہت خوب! سلامت رہیں!​
یوسف سلطان — جنوری 28، 2017 9:14 صبح
پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا
عشق نے خاص تو کیا عام بھی رہنے نہ دیا
آخرِ کار پکارا اسے ظالم کہہ کر
درد نے دوست کا اکرام بھی رہنے نہ دیا
عیش میں پہلے کہاں اپنی بسر ہوتی تھی
یاد نے دو گھڑی آرام بھی رہنے نہ دیا
دل کو آوارگیاں دور بہت چھوڑ آئیں
ذکرِ خیر ایک طرف، نام بھی رہنے نہ دیا
بہت عمدہ !
سید ذیشان حیدر — جنوری 28، 2017 1:45 شام
بہت خوبصورت زمین میں بہت خوبصورت کلام ہے!
ڈاکٹرعامر شہزاد — جنوری 28، 2017 3:41 شام
پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا
عشق نے خاص تو کیا عام بھی رہنے نہ دیا

وہی زنجیر ہے تیرے بھی گلے میں راحیلؔ
جس نے سورج کو لبِ بام بھی رہنے نہ دیا
واہ واہ واہ ۔۔ کیا بات ہے سر ۔۔ حسب ِ روایت اور حسبِ عادت بہت ہی اعلیٰ اور خوبصورت غزل ۔۔ ڈھیروں داد ۔۔
الف عین — جنوری 28، 2017 3:58 شام
زبردست۔ تازہ بہ تازہ گرما گرم۔ داد قبول کرو
حماد علی — جنوری 29، 2017 10:14 شام
واہ سبحان اللہ پڑھ کر مزاہ آ گیا!
عاطف ملک — جنوری 30، 2017 8:13 شام
بہت ہی عمدہ راحیل بھائی!
ہر شعر لاجواب!
کاشف اسرار احمد — جنوری 31، 2017 7:59 صبح
آخرِ کار پکارا اسے ظالم کہہ کر
درد نے دوست کا اکرام بھی رہنے نہ دیا
آہا ۔ کیا خوب۔
ڈھیروں داد راحیل بھائی!
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 31، 2017 8:02 صبح
کوئی کیوں آئے گا دوبارہ تری جنت میں
دانہ بھی چھین لیا، دام بھی رہنے نہ دیا
بہت عمدہ جناب
منیب احمد فاتح — فروری 3، 2017 12:15 شام
وہی زنجیر ہے تیرے بھی گلے میں راحیل
جس نے سورج کو لبِ بام بھی رہنے نہ دیا
واہ۔ بہت عمدہ۔ بہت خوبصورت انداز!
نوید ناظم — فروری 3، 2017 12:40 شام
ماشاء اللہ !!
طارق سعید — فروری 3، 2017 1:02 شام
مطلع اتنا اچھا ہو تو پوری غزل میں اس کا لطف اور اثر حاوی رہتا ہے۔ کیا خوب اشعار ہیں
عمر سیف — فروری 3، 2017 2:20 شام
خوب
ظہیر عباس ورک — فروری 3، 2017 3:24 شام
پیارا کلام ہے راحیل بھائی!
فیضان قیصر — فروری 13، 2017 6:40 شام
جب جی کچھ اچھا کلام پڑھنے کا چاہتا ہے ۔ تو ڈھونڈھ کر آپ کی غزلیں پڑھتا ہوں۔ ہر شعر پوری غزل واہ واہ سبحان اللہ
رومانہ چوہدری — فروری 16، 2017 9:27 صبح
پختہ ہونے نہ دیا خام بھی رہنے نہ دیا
عشق نے خاص تو کیا عام بھی رہنے نہ دیا
بہت خوب راحیل:)
محمداحمد — فروری 21، 2017 6:17 صبح
لاجواب!
بہت ہی خوب!
یہ وہی غزل ہے نا جس کے صرف دو اشعار سننے کو ملے تھے۔
ویسے میں ہی غلطی پر تھا۔ ایسے اچھے شاعر کا مغرور ہو جانا بعید از قیاس نہیں تھا۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%D8%AE%D8%AA%DB%81-%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92-%D9%86%DB%81-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%AE%D8%A7%D9%85-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B1%DB%81%D9%86%DB%92-%D9%86%DB%81-%D8%AF%DB%8C%D8%A7.94462/