پرانے رنگ میں اشک ِ غم ِ تازہ ملاتا ہوں

ذوالفقار نقوی — دسمبر 13، 2013 3:08 شام
پرانے رنگ میں اشک ِ غم ِ تازہ ملاتا ہوں
در و دیوار پر کچھ عکس ِ نا دیدہ سجاتا ہوں
مجھے صحرا نوردی راس آتی جا رہی ہے اب
خرابات ِ چمن میں لالہ و سوسن اُگاتا ہوں
مرے اِس شوق سے دریا، کنارے، سب شناسا ہیں
جہاں طوفاں ہو موجوں کا، وہیں لنگر اُٹھاتا ہوں
تمہاری نغمہ سنجی کی دکاں پر جو نہیں ملتا
وہی اک نغمہ ء پُر سوز میں سب کو سُناتا ہوں
نہ جانے کس نگر آباد ہو جاتی ہیں وہ جا کر
میں اکثر شام کو چھت سے پتنگیں جو اُڑاتا ہوں
پڑے ہیں آبلے لیکن قدم پھر بھی ہیں بر جستہ
میں کب سے لاش اپنی، اپنے کاندھوں پر اُٹھاتا ہوں
ذوالفقار نقوی
سید اِجلاؔل حسین — دسمبر 14، 2013 8:33 صبح
بہت خوب جناب!
ذوالفقار نقوی — دسمبر 14، 2013 2:33 شام
بہت شکریہ جناب اجلال صاحب ...
ذوالفقار نقوی — جون 11، 2016 7:02 صبح
الف عین صاحب
محمد اسامہ سَرسَری صاحب
محمد وارث صاحب
الف عین — جون 11، 2016 7:24 صبح
خوب ہے غزل۔
ذوالفقار نقوی — جون 11، 2016 9:11 صبح
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں محترم
محمد وارث — جون 11، 2016 5:55 شام
خوب غزل ہے نقوی صاحب، لاجواب!
محمد اسامہ سَرسَری — جون 11، 2016 8:27 شام
مرے اِس شوق سے دریا، کنارے، سب شناسا ہیں
جہاں طوفاں ہو موجوں کا، وہیں لنگر اُٹھاتا ہوں
کیا بات ہے! :)
ذوالفقار نقوی — جون 12، 2016 2:21 صبح
خوب غزل ہے نقوی صاحب، لاجواب!
بہت شکریہ محترم محمد وارث صاحب ۔۔۔۔حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں
ذوالفقار نقوی — جون 12، 2016 2:23 صبح
بہت نوازش جناب محمد اسامہ سَرسَری صاحب
ذوالفقار نقوی — اگست 22، 2016 9:10 صبح
میں چاہتا ہوں کہ اس غزل پر ایک تنقیدی نظرہو جائے ۔۔۔ اورگذارش کروں گا جناب محمد وارث اور محترم الف عین سمیت تمام ارباب ِ سخن شناس سےکہ وہ غزل میں موجود عیوب کے حوالے سے بات کریں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92-%D8%B1%D9%86%DA%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B4%DA%A9-%D9%90-%D8%BA%D9%85-%D9%90-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA.70116/