پروین کمار اشک کی زمین میں لکهی گئی غزل

مانی عباسی — جولائی 24، 2017 7:14 صبح

سنا ہے عشق میں جب تک جلا نہیں ہوتا
کوئی بھی آدمی تب تک کھرا نہیں ہوتا
ہنسی خوشی کی ضمانت نہیں ہوا کرتی
مسافتوں کی سند آبلہ نہیں ہوتا
یہ جو فراق کا صحرا ہے وصل کے پیاسو
کبھی یہاں سے گزر آب کا نہیں ہوتا
ملی ہے زندگی اس ریت کو تو نسبت سے
حسین ہوتے نہ تو کربلا نہیں ہوتا
کوئی ان اہلِ جہاں کو بتائے مانی جی
کہ ہاتھ جوڑ کر پتھر خدا نہیں ہوتا​
محمد تابش صدیقی — جولائی 24، 2017 7:26 صبح
بہت خوب۔
پروین کمار اشک صاحب چند دن قبل انتقال فرما گئے ہیں۔
لئیق احمد — جولائی 24، 2017 7:50 صبح
کوئی ان اہل_جہاں کو بتائے مانی جی..
کہ ہاتھ جوڑ کر پتھر خدا نہیں ہوتا...
بہت خوب
مانی عباسی — جولائی 24، 2017 11:06 صبح
بہت خوب۔
پروین کمار اشک صاحب چند دن قبل انتقال فرما گئے ہیں۔
جی جناب خبر ملی تهی
مانی عباسی — جولائی 24، 2017 11:07 صبح
نوازش جناب
کاشف اختر — جولائی 24، 2017 11:34 صبح
بہت خوب واہ واہ
مانی عباسی — جولائی 24، 2017 12:26 شام
نوازش جناب​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%D8%B1%D9%88%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D9%85%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D8%B4%DA%A9-%DA%A9%DB%8C-%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%84%DA%A9%D9%87%DB%8C-%DA%AF%D8%A6%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84.97685/