پل پل تیری یاد ستائے نیند نہ آئے از روحانی بابا

عظیم اللہ قریشی — جولائی 9، 2010 2:25 شام
پل پل تیری یاد ستائے نیند نہ آئے
رہ رہ کر یہ دل گھبرائے نیند نہ آئے
آنکھوں میں تصویر تیری تو رہتی ہے
کانوں میں آواز جو آئے نیند نہ آئے
مجھ کو تارے بھی اکثر یہ کہتے ہیں
تو نے جب سے دیپ جلائے نیند نہ آئے
یوں تو پیار وہ مجھ سے زیادہ کرتا ہے
ڈر رہتا ہے بھول نہ جائے نیند نہ آئے
جاگتی آنکھوں سے دل کا یہ پاگل پن
کیسے کیسے خواب دکھائے نیند نہ آئے
میں نے تو تھک ہار کے اب سوجانا ہے
اس کو جائے کون سلائے نیند نہ آئے
بابا سب کو نیند پیاری ہے لیکن
مجھ سے جو بھی آنکھ ملائے نیند نہ آئے
ابن سعید — جولائی 9، 2010 6:19 شام
بھئی آپ نے قسم کھا رکھی ہے کہ ایک آدھ مصرع خارج از بحر اور ایک آدھ الفاظ کا غیر فصیح استعمال ہر پیش کش میں کرنا ہے۔ ویسے کوشش اچھی ہے۔
عظیم اللہ قریشی — جولائی 10، 2010 3:47 صبح
ویسے ابن سعید میرے لیئے ایتنا ہی کافی ہے
ویسے کوشش اچھی ہے۔
بقول فیض
بھولے سے آج وہ مسکرا تو دیئے فیض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
فاتح — جولائی 10، 2010 4:48 صبح
فیض بے چارے کا کلام چونکہ الہامی نہیں لہٰذا اس کی "اصلاح" کیے دیتے ہیں;)
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%D9%84-%D9%BE%D9%84-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%AF-%D9%86%DB%81-%D8%A2%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B2-%D8%B1%D9%88%D8%AD%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D8%A7.30550/