پڑی تھی کمرے میں شامِ ملال تہہ بہ تہہ

نویدظفرکیانی — جنوری 16، 2020 7:48 صبح
پڑی تھی کمرے میں شامِ ملال تہہ بہ تہہ
لپیٹے تھی مجھے موجِ خیال تہہ بہ تہہ
یوں رنگ و نور کے اسرار سارے کھل جاتے
میں دیکھتا تیرا عکسِ جمال تہہ بہ تہہ
خود آگہی مجھے کھودے نئے طریقے سے
نکال دے مجھے مجھ سے کدال تہہ بہ تہہ
ملا ہے موج پسِ موج اِک نیا گرداب
سدا سے ہے میرا طالع وبال تہہ بہ تہہ
ہر آئینے میں نہیں ہوتا عکسِ یک پہلو
تو آپ اپنی نظر کو اُجال تہہ بہ تہہ
میں کس جواب سے بخیہ کشائیاں کرتا
کئے گئے تھے بہت سے سوال تہہ بہ تہہ
بہت بُری طرح اُلجھا کے رکھ دیا ہے مجھے
وہ سادگی کی ہے ایسی مثال تہہ بہ تہہ
کمال مل نہیں پاتا کبھی کمال کے بعد
کچھ ایسے آتا ہے اکثر زوال تہہ بہ تہہ

میں کھوجتا چلا جاتا ہوں زندگی کو ظفرؔ
نہ جانے ہو کہاں آبِ زلال تہہ بہ تہہ

نویدظفرکیانی
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 16، 2020 8:11 صبح
بہت بُری طرح اُلجھا کے رکھ دیا ہے مجھے
وہ سادگی کی ہے ایسی مثال تہہ بہ تہہ

کمال مل نہیں پاتا کبھی کمال کے بعد
کچھ ایسے آتا ہے اکثر زوال تہہ بہ تہہ
بھئی واہ! سبحان اللہ ۔۔۔ کیا نادر ردیف ہے اور کیا ہی عمدہ نبھایا ہے آپ نے اسے۔ ماشاءاللہ ۔۔۔ بہت خوب!
محمد شکیل خورشید — جنوری 16، 2020 11:15 صبح
بہت خوب
محمد شکیل خورشید — جنوری 16، 2020 11:16 صبح
میں کس جواب سے بخیہ کشائیاں کرتا
کئے گئے تھے بہت سے سوال تہہ بہ تہہ
اچھوتا خیال اور کمال الفاظ
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 17، 2020 1:46 صبح
پڑی تھی کمرے میں شامِ ملال تہہ بہ تہہ
لپیٹے تھی مجھے موجِ خیال تہہ بہ تہہ
یوں رنگ و نور کے اسرار سارے کھل جاتے
میں دیکھتا تیرا عکسِ جمال تہہ بہ تہہ
خود آگہی مجھے کھودے نئے طریقے سے
نکال دے مجھے مجھ سے کدال تہہ بہ تہہ
ملا ہے موج پسِ موج اِک نیا گرداب
سدا سے ہے میرا طالع وبال تہہ بہ تہہ
ہر آئینے میں نہیں ہوتا عکسِ یک پہلو
تو آپ اپنی نظر کو اُجال تہہ بہ تہہ
میں کس جواب سے بخیہ کشائیاں کرتا
کئے گئے تھے بہت سے سوال تہہ بہ تہہ
بہت بُری طرح اُلجھا کے رکھ دیا ہے مجھے
وہ سادگی کی ہے ایسی مثال تہہ بہ تہہ
کمال مل نہیں پاتا کبھی کمال کے بعد
کچھ ایسے آتا ہے اکثر زوال تہہ بہ تہہ

میں کھوجتا چلا جاتا ہوں زندگی کو ظفرؔ
نہ جانے ہو کہاں آبِ زلال تہہ بہ تہہ

نویدظفرکیانی
خوبصورت خوبصورت۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 17، 2020 2:38 صبح
بہت خوب نوید ظفر صاحب!
بخیہ کشائیاں یا بخیہ کشائی ایک نیا لفظ نظر سے گزرا ۔ براہِ کرم اس کے حسب نسب سے کچھ آگاہی بخشئے ۔ :)
رشید حسرت — جنوری 17، 2020 5:53 صبح
پڑی تھی کمرے میں شامِ ملال تہہ بہ تہہ
لپیٹے تھی مجھے موجِ خیال تہہ بہ تہہ
یوں رنگ و نور کے اسرار سارے کھل جاتے
میں دیکھتا تیرا عکسِ جمال تہہ بہ تہہ
خود آگہی مجھے کھودے نئے طریقے سے
نکال دے مجھے مجھ سے کدال تہہ بہ تہہ
ملا ہے موج پسِ موج اِک نیا گرداب
سدا سے ہے میرا طالع وبال تہہ بہ تہہ
ہر آئینے میں نہیں ہوتا عکسِ یک پہلو
تو آپ اپنی نظر کو اُجال تہہ بہ تہہ
میں کس جواب سے بخیہ کشائیاں کرتا
کئے گئے تھے بہت سے سوال تہہ بہ تہہ
بہت بُری طرح اُلجھا کے رکھ دیا ہے مجھے
وہ سادگی کی ہے ایسی مثال تہہ بہ تہہ
کمال مل نہیں پاتا کبھی کمال کے بعد
کچھ ایسے آتا ہے اکثر زوال تہہ بہ تہہ

میں کھوجتا چلا جاتا ہوں زندگی کو ظفرؔ
نہ جانے ہو کہاں آبِ زلال تہہ بہ تہہ

نویدظفرکیانی
بہت خُوب۔ نہایت خوب صورت۔
فرحان محمد خان — جنوری 19، 2020 6:16 شام
بہت خوب
ردیف ❤
عاطف ملک — جنوری 25، 2020 3:40 شام
بہت بُری طرح اُلجھا کے رکھ دیا ہے مجھے
وہ سادگی کی ہے ایسی مثال تہہ بہ تہہ
واہ،بہت خوبصورت کلام
احمد وصال — جنوری 29، 2020 3:57 شام
واااااااااااااہ واااااااااااااہ
خوب صورت غزل

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%DA%91%DB%8C-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%D9%85%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B4%D8%A7%D9%85%D9%90-%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84-%D8%AA%DB%81%DB%81-%D8%A8%DB%81-%D8%AA%DB%81%DB%81.109995/