پگھل کر روشنی میں ڈھل رہوں گا

ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 3:07 شام
غزل
پگھل کر روشنی میں ڈھل رہوں گا
نظر آکر بھی میں اوجھل رہوں گا
بچھڑ جاؤں گا اک دن اشک بن کر
تمہاری آنکھ میں دوپَل رہوں گا
ہزاروں شکلیں مجھ میں دیکھنا تم
سروں پر بن کے میں بادل رہوں گا
میں مٹی ہوں ،کوئی سونا نہیں ہوں
جہاں کل تھا ، وہیں میں کل رہوں گا
بدن صحرا ہے لیکن آنکھ نم ہے
اِسی شبنم سے میں جل تھل رہوں گا
جہاں چاہو مجھے رکھ دو اٹھا کر
چراغِ نیم شب ہوں جل رہوں گا
گرا کر خود کو ہلکا ہو تو جاؤں
پر اندر سے بہت بوجھل رہوں گا
ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مارچ ۲۰۱۲​
لاریب مرزا — ستمبر 21، 2016 3:21 شام
واہ!! بہت عمدہ کلام ہے۔ بہت سی داد آپ کے لیے
محمد تابش صدیقی — ستمبر 21، 2016 4:24 شام
بہت عمدہ ظہیر بھائی.
بچھڑ جاؤں گا اک دن اشک بن کر
تمہاری آنکھ میں دوپَل رہوں گا

ہزاروں شکلیں مجھ میں دیکھنا تم
سروں پر بن کے میں بادل رہوں

میں مٹی ہوں ،کوئی سونا نہیں ہوں
جہاں کل تھا ، وہیں میں کل رہوں گا

جہاں چاہو مجھے رکھ دو اٹھا کر
چراغِ نیم شب ہوں جل رہوں گا
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 2:11 شام
واہ!! بہت عمدہ کلام ہے۔ بہت سی داد آپ کے لیے
بہت شکریہ! نوازش!!
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 2:12 شام
بہت عمدہ ظہیر بھائی.
محبت ہے آپ کی تابش بھا ئی ! بہت ممنون ہوں !
محمداحمد — نومبر 25، 2016 12:38 شام
عمدہ غزل ظہیر بھائی!
بہت سی داد!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%DA%AF%DA%BE%D9%84-%DA%A9%D8%B1-%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%88%DA%BE%D9%84-%D8%B1%DB%81%D9%88%DA%BA-%DA%AF%D8%A7.92034/