پھر معصوموں کا خون بہا، پھر آگ لگی ہے گلشن میں

نوید رزاق بٹ — جنوری 12، 2014 3:14 شام
پھر معصوموں کا خون بہا، پھر آگ لگی ہے گلشن میں
پھر پیار نے بازی ہاری ہے، پھر خون کے پیاسے جیت گئے

کچھ روز چلی الفت کی ہوا، پھر اشکوں کی برسات ہوئی
اِس پیار کا قصہ کیا لکھنا، دو موسم تھے جو بِیت گئے

وہ گیت جو بُلّھا گاتا تھا، جو پیار ہمیں سکھلاتا تھا
کچھ یاد تو ہے پر یاد نہیں، کب بھول ہمیں وہ گیت گئے

(نوید رزاق بٹ)​
شمشاد — جنوری 13، 2014 6:20 صبح
بہت خوبصورت اشعار ہیں۔
بہت داد قبول فرمائیں۔
یونس — جنوری 13، 2014 6:40 صبح
بہت اعلیٰ ۔
معاشرے کی زوال پذیر اقدار کا نوحہ ۔۔۔
نوید رزاق بٹ — جنوری 15، 2014 6:35 شام
بہت خوبصورت اشعار ہیں۔
بہت داد قبول فرمائیں۔
بہت شکریہ :)
بہت اعلیٰ ۔
معاشرے کی زوال پذیر اقدار کا نوحہ ۔۔۔
بے حد شکریہ سر۔
قیصرانی — جنوری 15، 2014 6:36 شام
پھر معصوموں کا خون بہا، پھر آگ لگی ہے گلشن میں
پھر پیار نے بازی ہاری ہے، پھر خون کے پیاسے جیت گئے

کچھ روز چلی الفت کی ہوا، پھر اشکوں کی برسات ہوئی
اِس پیار کا قصہ کیا لکھنا، دو موسم تھے جو بِیت گئے

وہ گیت جو بُلّھا گاتا تھا، جو پیار ہمیں سکھلاتا تھا
کچھ یاد تو ہے پر یاد نہیں، کب بھول ہمیں وہ گیت گئے

(نوید رزاق بٹ)​
ابن انشاء کا رنگ۔۔۔ بہت اچھا اور حیران کن :)
نوید رزاق بٹ — جنوری 15، 2014 6:46 شام
ابن انشاء کا رنگ۔۔۔ بہت اچھا اور حیران کن :)
ذرہ نوازی :)۔ ابنِ انشاء کا کیا ہی خوب انداز ہے۔
قیصرانی — جنوری 15، 2014 6:47 شام
ذرہ نوازی :)۔ ابنِ انشاء کا کیا ہی خوب انداز ہے۔
جیتے رہیئے :)
عبد الرحمن — جنوری 15، 2014 7:04 شام
بہت ہی عمدہ اشعار ہے۔
نوید رزاق بٹ — جنوری 15، 2014 10:10 شام
بہت ہی عمدہ اشعار ہے۔
آداب :)
ایوب ناطق — جنوری 16، 2014 7:08 شام
خوبصورت اشعار (دو تین معمولی باتوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے)
نوید رزاق بٹ — جنوری 16، 2014 9:53 شام
خوبصورت اشعار (دو تین معمولی باتوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے)
بہت شکریہ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D9%85%D8%B9%D8%B5%D9%88%D9%85%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AE%D9%88%D9%86-%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%8C-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D8%A2%DA%AF-%D9%84%DA%AF%DB%8C-%DB%81%DB%92-%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA.71110/