پہاڑ ، دشت ، سمندر ٹھکانے دریا کے

ظہیراحمدظہیر — مارچ 14، 2018 12:12 صبح
چھ سات سال پرانی ایک غزل پیشِ خدمت ہے ۔ میں تو اسے سرکلر فائل میں ڈال چکا تھا لیکن برادرم محمد تابش صدیقی کی فرمائش اور ہمت افزائی پر یہاں لگارہا ہوں ۔ یہ غزل اس دور کی ہے جب میں نے مختلف مظاہر فطرت مثلاً ہوا ، بادل، پانی وغیرہ کو ردیف بنا کر کچھ غزلیں لکھی تھیں ۔ شاید کوئی کام کا شعر نکل آئے ۔ جس کا ساری داد بیداد صدیقی صاحب قبلہ کے کھاتے میں جائے گی ۔ :):):)
پہاڑ ، دشت ، سمندر ٹھکانے دریا کے
زمیں کو رنگ ملے ہیں بہانے دریا کے
کبھی سمندروں گہرا ، تو ہے کبھی پایاب
بدلتے رہتے ہیں اکثر زمانے دریا کے
سفینہ سب کا سمندر کی سمت میں ہے رواں
مگر لبوں پہ مسلسل ترانے دریا کے​

نہیں چٹان کے سینے پہ یوں ہی چادرِ آب
ہیں آبشار کے پیچھے خزانے دریا کے
بھنور کی آنکھ میں آنکھیں یہ ہم نے کیا ڈالیں
ہمی پہ جم گئے سارے نشانے دریا کے
ہمی کو رہنا ہے تشنہ کنارِ دریا پر
تمام جشن بھی ہم کو منانے دریا کے
لہو بہے کہ سیاہی فرات و دجلہ میں
مرے زوال کے قصے ، فسانے دریا کے
ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۱​


محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 14، 2018 12:54 صبح
خ
چھ سات سال پرانی ایک غزل پیشِ خدمت ہے ۔ میں تو اسے سرکلر فائل میں ڈال چکا تھا لیکن برادرم محمد تابش صدیقی کی فرمائش اور ہمت افزائی پر یہاں لگارہا ہوں ۔ یہ غزل اس دور کی ہے جب میں نے مختلف مظاہر فطرت مثلاً ہوا ، بادل، پانی وغیرہ کو ردیف بنا کر کچھ غزلیں لکھی تھیں ۔ شاید کوئی کام کا شعر نکل آئے ۔ جس کا ساری داد بیداد صدیقی صاحب قبلہ کے کھاتے میں جائے گی ۔ :):):)
پہاڑ ، دشت ، سمندر ٹھکانے دریا کے
زمیں کو رنگ ملے ہیں بہانے دریا کے
کبھی سمندروں گہرا ، تو ہے کبھی پایاب
بدلتے رہتے ہیں اکثر زمانے دریا کے
سفینہ سب کا سمندر کی سمت میں ہے رواں
مگر لبوں پہ مسلسل ترانے دریا کے​

نہیں چٹان کے سینے پہ یوں ہی چادرِ آب
ہیں آبشار کے پیچھے خزانے دریا کے
بھنور کی آنکھ میں آنکھیں یہ ہم نے کیا ڈالیں
ہمی پہ جم گئے سارے نشانے دریا کے
ہمی کو رہنا ہے تشنہ کنارِ دریا پر
تمام جشن بھی ہم کو منانے دریا کے
لہو بہے کہ سیاہی فرات و دجلہ میں
مرے زوال کے قصے ، فسانے دریا کے
ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۱​


وب صورت، دل کو لبھانے والی نئی ردیفیں آپ ہی کا خاصہ ہیں صاحب۔ داد قبول فرمائیے ، گرچہ اکسانے والے محمد تابش صدیقی بھائی ہی ہوں
فاخر رضا — مارچ 14، 2018 3:06 صبح
دارے شعر اچھے ہیں مگر مقطع سب پر نمبر لے گیا
محمد تابش صدیقی — مارچ 14، 2018 3:10 صبح
بھنور کی آنکھ میں آنکھیں یہ ہم نے کیا ڈالیں
ہمی پہ جم گئے سارے نشانے دریا کے
ہمی کو رہنا ہے تشنہ کنارِ دریا پر
تمام جشن بھی ہم کو منانے دریا کے
لہو بہے کہ سیاہی فرات و دجلہ میں
مرے زوال کے قصے ، فسانے دریا کے
بہت عمدہ ظہیر بھائی
محبتوں پر شکر گزار ہوں۔
لئیق احمد — مارچ 14، 2018 5:07 صبح
زبردست
ظہیر صاحب مجھے لگتا ہے میں باقاعدہ آپ کا فین ہوتا جا رہا ہوں :)
فاخر رضا — مارچ 14، 2018 9:30 صبح
بہت عمدہ ظہیر بھائی
محبتوں پر شکر گزار ہوں۔
تابش آپ مدیریت کا صحیح حق ادا کررہے ہیں. دوسرے مدیروں سے بھی کہیے کہ کچھ positive activity دکھائیں. مدیر کا اصل کام ہی معیاری ادب کی ترویج ہے. صرف قدغن لگانا کوئی خوبی نہیں. آپ تنقید بھی اچھی طرح handle کررہے ہیں ماشاءاللہ. آپ اسی طرح بڑھتے رہیں اور دیگر کو بھی سمجھائیں. میں سوچ رہا ہوں کہ آپ کو چیف ایڈیٹر بنوا دوں تعریفیں کرکر کے
اکمل زیدی — مارچ 14، 2018 9:57 صبح
زبردست
ظہیر صاحب مجھے لگتا ہے میں باقاعدہ آپ کا فین ہوتا جا رہا ہوں :)
اچھی بات ہےگرمیاں بھی آرہی ہیں ۔ ۔ ۔ ملت فین پاک فین کے بعد اب پیش ہےظہیر احمد ظہیر فین :)
اکمل زیدی — مارچ 14، 2018 9:58 صبح
سفینہ سب کا سمندر کی سمت میں ہے رواں
مگر لبوں پہ مسلسل ترانے دریا کے
خوب ہے ۔ ۔ ۔
فاخر رضا — مارچ 14، 2018 10:01 صبح
اکمل زیدی اپنے رنگ پر آتے ہوئے گول پر گول کررہے ہیں. اب دیکھنا یہ ہے کہ ایمپائر اس پر کیا رسپانس دیتے ہیں. آجکل محفل پر صرف ایک ہی رنگ کے پھول پودے پائے اور برداشت کئے جاتے ہیں. ذرا سنبھل کے
اکمل زیدی — مارچ 14، 2018 10:07 صبح
اکمل زیدی اپنے رنگ پر آتے ہوئے گول پر گول کررہے ہیں. اب دیکھنا یہ ہے کہ ایمپائر اس پر کیا رسپانس دیتے ہیں. آجکل محفل پر صرف ایک ہی رنگ کے پھول پودے پائے اور برداشت کئے جاتے ہیں. ذرا سنبھل کے
فاخر بھائی ۔ ۔ ۔ رنگ تو جو تھا وہی رہے گا۔ ۔ ۔ ہاں رنگ کے ساتھ تھوڑا سا ڈھنگ بدلنے کی کوشش میں ہوں ۔۔۔۔دیکھیں کیا گذرتی ہے ۔ ۔ ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 14، 2018 11:18 شام
خوب صورت، دل کو لبھانے والی نئی ردیفیں آپ ہی کا خاصہ ہیں صاحب۔ داد قبول فرمائیے ، گرچہ اکسانے والے محمد تابش صدیقی بھائی ہی ہوں

آداب خلیل بھائی ! بہت نوازش! یہ سراسر محبت ہے آپ کی ! اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 14، 2018 11:25 شام
دارے شعر اچھے ہیں مگر مقطع سب پر نمبر لے گیا
جی فاخر بھائی ، آخری شعر میں اپنی حسرت ناک تاریخ کی طرف ہی اشارہ ہے ۔صدیوں پہلے سے آج دن تک فرات و دجلہ ہماری بے بسی ہی دیکھ رہے ہیں ۔ اس پر اور کہا ہی کیا جاسکتا ہے ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 14، 2018 11:26 شام
بہت عمدہ ظہیر بھائی
محبتوں پر شکر گزار ہوں۔
محبت اور پذیرائی تو آپ کا خاصہ ہے تابش بھائی ! مقروض تو میں ہوں ۔ اللہ آپ کا ذوق سلامت رکھے اور شاد و آباد رکھے ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 14، 2018 11:28 شام
زبردست
ظہیر صاحب مجھے لگتا ہے میں باقاعدہ آپ کا فین ہوتا جا رہا ہوں :)
لئیق بھائی ، بہت محبت ہے آپ کی !! اللہ آپ کو دین و دنیا کی تمام نعمتیں بدرجۂ کمال عطا فرمائے ۔ آمین۔ بہت ممنون ہوں اس پذیرائی پر !
ظہیراحمدظہیر — مارچ 14، 2018 11:29 شام
نوازش اکمل بھائی ! بہت شکریہ!
محمداحمد — مارچ 26، 2018 11:40 صبح
واہ واہ !
کیا کہنے! بہت عمدہ ظہیر بھائی!
عثمان غنی آسؔی — اپریل 4، 2018 8:58 صبح
چھ سات سال پرانی ایک غزل پیشِ خدمت ہے ۔ میں تو اسے سرکلر فائل میں ڈال چکا تھا لیکن برادرم محمد تابش صدیقی کی فرمائش اور ہمت افزائی پر یہاں لگارہا ہوں ۔ یہ غزل اس دور کی ہے جب میں نے مختلف مظاہر فطرت مثلاً ہوا ، بادل، پانی وغیرہ کو ردیف بنا کر کچھ غزلیں لکھی تھیں ۔ شاید کوئی کام کا شعر نکل آئے ۔ جس کا ساری داد بیداد صدیقی صاحب قبلہ کے کھاتے میں جائے گی ۔ :):):)
پہاڑ ، دشت ، سمندر ٹھکانے دریا کے
زمیں کو رنگ ملے ہیں بہانے دریا کے
کبھی سمندروں گہرا ، تو ہے کبھی پایاب
بدلتے رہتے ہیں اکثر زمانے دریا کے
سفینہ سب کا سمندر کی سمت میں ہے رواں
مگر لبوں پہ مسلسل ترانے دریا کے​

نہیں چٹان کے سینے پہ یوں ہی چادرِ آب
ہیں آبشار کے پیچھے خزانے دریا کے
بھنور کی آنکھ میں آنکھیں یہ ہم نے کیا ڈالیں
ہمی پہ جم گئے سارے نشانے دریا کے
ہمی کو رہنا ہے تشنہ کنارِ دریا پر
تمام جشن بھی ہم کو منانے دریا کے
لہو بہے کہ سیاہی فرات و دجلہ میں
مرے زوال کے قصے ، فسانے دریا کے
ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۱​


بہت خوب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%DB%81%D8%A7%DA%91-%D8%8C-%D8%AF%D8%B4%D8%AA-%D8%8C-%D8%B3%D9%85%D9%86%D8%AF%D8%B1-%D9%B9%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%92-%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DB%92.100496/