پیروڈی: بےدردی٭ تابش

محمد تابش صدیقی — جنوری 11، 2019 4:50 صبح
بےدردی
(علامہ اقبالؒ سے معذرت)
٭
تاروں پر واپڈا کی تنہا
چڑیا تھی کوئی نکمی بیٹھی
کہتی تھی کہ صبح سر پہ آئی
سپنے تکنے میں شب گزاری
اُٹھوں کس طرح میں یہاں سے
سستی سی چھا گئی ہے ایسی
دیکھی چڑیا کی کاہلی تو
بجلی کوئی پاس ہی سے بولی
"حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے"
آتی ہوں گرچہ میں ذرا سی
کیا غم ہے جو چھا گئی ہے سستی
میں تار میں زندگی بھروں گی
اللہ نے رکھی ہے مجھ میں طاقت
دو لمحوں میں بھسم کروں گی
"ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے"

٭٭٭
محمد تابش صدیقی

وجہِ گستاخی
IMG20190111082447.jpg
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 11، 2019 4:57 صبح
بہت لاجواب ، شاندار ،
پرمزاح غزل ۔
محمداحمد — جنوری 11، 2019 5:25 صبح
صبح صبح لاجواب نظم! :):)
چڑیا عصر حاضر کی دلدادہ ہے۔ :D
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 11، 2019 6:08 صبح
بےدردی
(علامہ اقبالؒ سے معذرت)
٭
تاروں پر واپڈا کی تنہا
چڑیا تھی کوئی نکمی بیٹھی
کہتی تھی کہ صبح سر پہ آئی
سپنے تکنے میں شب گزاری
اُٹھوں کس طرح آشیاں سے
سستی سی چھا گئی ہے ایسی
سن کے چڑیا کی کاہلی کو
بجلی کوئی پاس ہی سے بولی
"حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے"
آتی ہوں گرچہ میں ذرا سی
کیا غم ہے جو چھا گئی ہے سستی
میں تار میں زندگی بھروں گی
اللہ نے رکھی ہے مجھ میں طاقت
دو لمحوں میں بھسم کروں گی
"ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے"

٭٭٭
محمد تابش صدیقی

وجہِ گستاخی
IMG20190111082447.jpg

خوبصورت خوب صورت۔ کیا کہنے!
عرفان سعید — جنوری 11، 2019 6:34 صبح
بےدردی
(علامہ اقبالؒ سے معذرت)
٭
تاروں پر واپڈا کی تنہا
چڑیا تھی کوئی نکمی بیٹھی
کہتی تھی کہ صبح سر پہ آئی
سپنے تکنے میں شب گزاری
اُٹھوں کس طرح آشیاں سے
سستی سی چھا گئی ہے ایسی
سن کے چڑیا کی کاہلی کو
بجلی کوئی پاس ہی سے بولی
"حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے"
آتی ہوں گرچہ میں ذرا سی
کیا غم ہے جو چھا گئی ہے سستی
میں تار میں زندگی بھروں گی
اللہ نے رکھی ہے مجھ میں طاقت
دو لمحوں میں بھسم کروں گی
"ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے"

٭٭٭
محمد تابش صدیقی

وجہِ گستاخی
IMG20190111082447.jpg
بہت خوب!
اس چڑیا کو تار سے اٹھا کر کبھی "بینچ" پر بٹھا کر دیکھیں۔
فہد اشرف — جنوری 11، 2019 7:03 صبح
بہت خوب تابش بھائی۔ اگر ایک نکمی چڑیا نے اتنی مزیدار نظم کہلوائی تو بطور "محرکِ دیوان" یہ نکمیاں آپ کے لیے :)
IMG-20171117-WA0001.jpg
فہد اشرف — جنوری 11، 2019 7:07 صبح
بہت خوب تابش بھائی۔ اگر ایک نکمی چڑیا نے اتنی مزیدار نظم کہلوائی تو بطور "محرکِ دیوان" یہ نکمیاں آپ کے لیے :)
IMG-20171117-WA0001.jpg
تابش بھائی مصحفی کا ایک شعر ذرا سی تحریف کے ساتھ آپ کے لیے۔
باندھے ہوئے پروں کو بہ امیدِ اجابت
رہتی ہیں بیٹھی سینکڑوں چڑیاں مرے آگے :p
عرفان سعید — جنوری 11، 2019 7:37 صبح
اُٹھوں کس طرح آشیاں سے
سستی سی چھا گئی ہے ایسی
ایسی سست چڑیوں کو گجرانوالہ بھیجنا چاہیے کہ کسی پہلوان کے کام آ سکیں!
محمد تابش صدیقی — جنوری 11، 2019 8:44 صبح
بہت لاجواب ، شاندار ،
پرمزاح غزل ۔
بہت شکریہ عدنان بھائی۔
غزل نہیں نظم۔ :)
صبح صبح لاجواب نظم! :):)
چڑیا عصر حاضر کی دلدادہ ہے۔ :D
آداب احمد بھائی۔
اب تو چڑیا نے بھی سیکھے ہیں یہ انساں کے چلن :p
خوبصورت خوب صورت۔ کیا کہنے!
بیت شکریہ استادِ محترم
بہت خوب!
اس چڑیا کو تار سے اٹھا کر کبھی "بینچ" پر بٹھا کر دیکھیں۔
بہت شکریہ عرفان بھائی۔
پھر تو اداسی کا سبب ہی پوچھنا پڑتا۔
بہت خوب تابش بھائی۔ اگر ایک نکمی چڑیا نے اتنی مزیدار نظم کہلوائی تو بطور "محرکِ دیوان" یہ نکمیاں آپ کے لیے :)
IMG-20171117-WA0001.jpg
یہ تنہا نہیں ہیں، بلکہ کسی بھی وقت کھیت پر حملہ کی منتظر ہیں، تو سست بھی نہیں ہیں۔ :p
تابش بھائی مصحفی کا ایک شعر ذرا سی تحریف کے ساتھ آپ کے لیے۔
باندھے ہوئے پروں کو بہ امیدِ اجابت
رہتی ہیں بیٹھی سینکڑوں چڑیاں مرے آگے :p
ہاہا۔ اور ہم سائیڈ سے تصویر لے کر غائب۔
ایسی سست چڑیوں کو گجرانوالہ بھیجنا چاہیے کہ کسی پہلوان کے کام آ سکیں!
یہ بھی اچھا مصرف ہے۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 11، 2019 9:09 صبح
بھیا ، ہم تو مبتدی ہیں ہمیں سیکھنے کے لیے آپ کی شفقت کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے ۔
فہد اشرف — جنوری 11، 2019 9:17 صبح
ایسی سست چڑیوں کو گجرانوالہ بھیجنا چاہیے کہ کسی پہلوان کے کام آ سکیں!
گجرانوالہ میں سستوں کو پھرتیلا بنایا جاتا ہے کیا؟
عرفان سعید — جنوری 11، 2019 9:19 صبح
گجرانوالہ میں سستوں کو پھرتیلا بنایا جاتا ہے کیا؟
چڑوں کو بھون کر کھایا جاتا ہے اور ان کی سستی پہلوانوں کے شکم میں دم توڑ دیتی ہے!
محمد تابش صدیقی — جنوری 11، 2019 12:03 شام
چڑوں کو بھون کر کھایا جاتا ہے اور ان کی سستی پہلوانوں کے شکم میں دم توڑ دیتی ہے!
عبید انصاری بھائی سے کمیشن پر بات کر لیتے ہیں۔
عبید انصاری — جنوری 11، 2019 12:10 شام
عبید انصاری بھائی سے کمیشن پر بات کر لیتے ہیں۔
ارے بھائی پہلے یہ تو بتائیں کہ یہ چڑے کھانے میں کیسے لگتے ہیں؟ :)
محمد تابش صدیقی — جنوری 11، 2019 12:11 شام
ارے بھائی پہلے یہ تو بتائیں کہ یہ چڑے کھانے میں کیسے لگتے ہیں؟ :)
یہ تو گوجرانوالہ والے ہی بتا سکتے ہیں۔ دروغ بر گردنِ عرفان سعید بھائی :)
سید عاطف علی — جنوری 11، 2019 2:07 شام
چڑوں کو بھون کر کھایا جاتا ہے اور ان کی سستی پہلوانوں کے شکم میں دم توڑ دیتی ہے!
کہیں پڑھا تھا کہ چالیس چڑوں کے مغز سے کچھ کشتے بھی تیار ہوتے تھے ۔
حاجی حنیف — جنوری 11، 2019 3:08 شام
باندھے ہوئے پروں کو بہ امیدِ اجابت
رہتی ہیں بیٹھی سینکڑوں چڑیاں مرے آگے
کیا آپ نے چڑیوں کے داروغہ کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے
اوروہ بھی منتظر اجابت چڑیاں
ہا ہا ہا ہی ہی ہی
جاسمن — جنوری 11، 2019 3:39 شام
واہ واہ مزیدار نظم۔
لاجواب۔
عرفان سعید — جنوری 11، 2019 3:45 شام
یہ تو گوجرانوالہ والے ہی بتا سکتے ہیں۔ دروغ بر گردنِ عرفان سعید بھائی :)
کافی عرصہ میرے ماموں گجرانوالہ میں رہائش پذیر رہے۔ ایک دو بار جب جانا ہوا تو بھونے چڑوں کے بازار کے طواف کا بھی شرف حاصل ہوا۔ کھانے کو ہم نے گھاس نہ ڈالی جس کی وجہ ہمارا عاشقانہ مزاج تھا جو کسی چڑیا کی جستجو میں تھا!
احسان قمی — جنوری 25، 2019 5:16 شام
بہت خوبصورت پیروڈی لاجواب بھائی نظم کے عنوان کی بھی پیروڈی دیکھ کے مشتاق احمد کی یاد آگئی
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%88%DB%8C-%D8%A8%DB%92%D8%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D9%AD-%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B4.105012/