چادر

زیف سید — ستمبر 16، 2010 11:17 شام
رات کے بارہ بجے تھے
نیند آنکھوں میں کسی آوارہ بدلی کی طرح آتی تھی، اور انگلی چھڑا کر بھاگ جاتی تھی
اچانک ذہن میں اک نظم کا کوندا سا لپکا
ہڑبڑا کر، پھینک کر چادر میں اٹھا
میز پر سے پین اٹھایا اور کاپی کھول کر
کاغذ پہ پہلا حرف لفظ لکھنا چاہتا ہی تھا
یکایک کان میں آواز آئی
“اے میاں شاعر
ذرا تخلیق کے گھوڑے سے اترو
ایک پل ٹھہرو، کہو کیا لکھ رہے ہو؟
میرے ماتھے پر سیاہی تھوپنے سے پیشتر
سینے پہ اپنا ہاتھ رکھ یہ بتاؤ
تم جو لکھو گے
وہ کیا اس اجلے اجلے پاک دامن سے بھی افضل ہے؟“
یہ سن کر رک گیا میں
میز پر آگے کی جانب جھک گیا میں
سوچ کے گہرے بھنور میں کھو گیا میں
۔۔۔ اٹھ کے پھر بتی بجھا کے
اور چادر کے مطابق پاؤں کو پھیلا کے
گہری نیند کی آغوش میں گم ہو گیا میں
الف عین — ستمبر 17، 2010 2:08 صبح
واہ زیف۔۔ میں منتظر ہوں مکمل مجموعے کا۔
ایس فصیح ربانی — ستمبر 17، 2010 5:40 صبح
واہ، بہت خوب، اچھی نظم ہے۔
داد قبول کیجیے۔
زیف سید — ستمبر 17، 2010 3:52 شام
واہ زیف۔۔ میں منتظر ہوں مکمل مجموعے کا۔

استادِ محترم، مجموعہ تو نہ جانے کب آئے، کیوں کہ رفتار بہت سست ہے۔ آپ کی محبت کا بہت بہت شکریہ۔
زیف
الف عین — ستمبر 17، 2010 6:17 شام
میرا اشارہ برقی مجموعے کی طرف تھا، وہ تو انہی نظموں سے بن سکتا ہے۔
محمداحمد — ستمبر 25، 2010 1:09 شام
بہت خوب زیف سید صاحب،
بہت اچھی نظم ہے۔ داد قبول کیجے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%86%D8%A7%D8%AF%D8%B1.31499/