چاند نکلا ہے چاندنی ہو گی

عظیم — مارچ 28، 2019 7:30 شام
غزل
چاند نکلا ہے چاندنی ہو گی
گھپ اندھیرے میں روشنی ہو گی
جس کسی نے بھی عمر جی ہو گی
اس نے محنت غضب کی کی ہو گی
غم نہ ہو گا تو اس زمانے میں
ہر طرف دوڑتی خوشی ہو گی
کیوں نہ مرنے کی راہ دیکھے گا
جس کو خواہش جناب کی ہو گی
مجھ کو لگتا ہے اس جہان کی شکل
اس ہی دنیا جہان سی ہو گی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سعید احمد سجاد — مارچ 28، 2019 7:55 شام
غزل
چاند نکلا ہے چاندنی ہو گی
گھپ اندھیرے میں روشنی ہو گی
جس کسی نے بھی عمر جی ہو گی
اس نے محنت غضب کی کی ہو گی
غم نہ ہو گا تو اس زمانے میں
ہر طرف دوڑتی خوشی ہو گی
کیوں نہ مرنے کی راہ دیکھے گا
جس کو خواہش جناب کی ہو گی
مجھ کو لگتا ہے اس جہان کی شکل
اس ہی دنیا جہان سی ہو گی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بہت خوب عظیم بھائی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF-%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C-%DB%81%D9%88-%DA%AF%DB%8C.106171/