چراغوں کی ہوا بھی چارہ گر ہے

نمرہ — جولائی 11، 2020 5:10 شام
چراغوں کی ہوا بھی چارہ گر ہے
یہی تو امتزاج خیر و شر ہے
ہم اپنے وقت سے پیچھے رہے ہیں
ہمیں درپیش صدیوں کا سفر ہے
بھٹکنا دربدر منزل ہے ان کی
جنوں زادوں کا قصہ مختصر ہے
یہ وحشت دل کے اندر آ بسی ہے
یہ تنہائی تو آخر ہر نگر ہے
ہوئے ہیں خاک کتنے تو بنا ہے
وہ اک رستہ کہ تیری رہگزر ہے
انھیں حسن جہاں آرا ملا ہے
ہمارے پاس اک نقد نظر ہے
ذرا اندازہ کیجے، کب سے در پر
کوئی تسلیم خو ہے، سر بسر ہے
حضور، آخر کہیں تو درگزر ہو
حضور، آخر کوئی بندہ بشر ہے
سلگ اٹھتے ہیں دل گاہے بگاہے
دھواں اٹھتا ہے لیکن بے اثر ہے
ہجوم دوستاں کی خیر، لیکن
ہمارے حال کی کس کو خبر ہے
غزال دشت ہیں سو اس کی بابت
ہمارا ہر حوالہ معتبر ہے​
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 11، 2020 6:44 شام
چراغوں کی ہوا بھی چارہ گر ہے
یہی تو امتزاج خیر و شر ہے
ہم اپنے وقت سے پیچھے رہے ہیں
ہمیں درپیش صدیوں کا سفر ہے
بھٹکنا دربدر منزل ہے ان کی
جنوں زادوں کا قصہ مختصر ہے
یہ وحشت دل کے اندر آ بسی ہے
یہ تنہائی تو آخر ہر نگر ہے
ہوئے ہیں خاک کتنے تو بنا ہے
وہ اک رستہ کہ تیری رہگزر ہے
انھیں حسن جہاں آرا ملا ہے
ہمارے پاس اک نقد نظر ہے
ذرا اندازہ کیجے، کب سے در پر
کوئی تسلیم خو ہے، سر بسر ہے
حضور، آخر کہیں تو درگزر ہو
حضور، آخر کوئی بندہ بشر ہے
سلگ اٹھتے ہیں دل گاہے بگاہے
دھواں اٹھتا ہے لیکن بے اثر ہے
ہجوم دوستاں کی خیر، لیکن
ہمارے حال کی کس کو خبر ہے
غزال دشت ہیں سو اس کی بابت
ہمارا ہر حوالہ معتبر ہے​
خوبصورت خوبصورت!!!
محمد وارث — جولائی 12، 2020 1:40 شام
واہ، عمدہ غزل ہے، بہت خوب۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 17، 2020 3:06 شام
سلگ اٹھتے ہیں دل گاہے بگاہے
دھواں اٹھتا ہے لیکن بے اثر ہے
واہ لاجواب
شاندار غزل
ایس ایس ساگر — جولائی 17، 2020 3:15 شام
خوبصورت غزل۔
ظہیراحمدظہیر — جولائی 18، 2020 10:46 شام
واہ واہ! بہت خوب نمرہ! بہت اچھی غزل ہے ۔ کئی اشعار پسند آئے ۔
ہوئے ہیں خاک کتنے تو بنا ہے
وہ اک رستہ کہ تیری رہگزر ہے
بہت اعلیٰ ! کیا اچھا کہا ہے !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%DB%81%D9%88%D8%A7-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81-%DA%AF%D8%B1-%DB%81%DB%92.112381/