چمکتے چاند ستارے ۔ فرزانہ نیناں

F@rzana — فروری 24، 2008 8:24 شام
چمکتے چاند ستارے ملول کرتے ہیں
یہ تحفے ہجر کے ہم خود قبول کرتے ہیں
مجھے خبر ہی نہیں کب خیال کے جگنو
شجر پہ ذہن کے کس دم نزول کرتے ہیں
میں تھوڑی دیر چمکنے دوں گھاس پر بوندیں
خراج غم یہی تنکے وصول کرتے ہیں
یہ زندگی تو حقیقت میں ایک نعمت ہے
جو اس کو جبر سمجھتے ہیں بھول کرتے ہیں
تلاش کرنا ہے پھر سایہ ہم کو صحرا میں
خطوط دل کے وہیں پر وصول کرتے ہیں
نجانے کب وہ مقدس گھڑی گزر جائے
جسے بلانے کی خاطر اصول کرتے ہیں
رکھا ہے جس نے تعلق کو دھوپ سا نیناں
نچھاور اس پہ ہمیں جا کے پھول کرتے ہیں
فاتح — فروری 24، 2008 9:08 شام
نیناں صاحبہ! خوبصورت غزل شیئر کرنے پر بہت شکریہ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
یوں تو تمام اشعار ہی خوبصورت ہیں مگر اس شعر کا تو جواب نہیں:

نجانے کب وہ مقدس گھڑی گزر جائے
کہ جس نے ہم پہ وظیفے نزول کرنے ہیں

ذیل کا مصرع میری رائے میں وزن سے گر رہا ہے۔
اس کے آخر میں 'طرح' کے ہجے 'طرحا' کیے جائیں (جو کسی طرح درست نہیں) تب ہی یہ وزن میں آ سکتا ہے۔
'طرح' کو شعرا نے 'ر' کی حرکت و سکون ہر دو طرح باندھا ہے لیکن 'طرحا' کبھی نہیں‌باندھا گیا۔

رکھا ہے جس نے تعلق کو دھوپ کی طرح

اور مندرجہ ذیل شعر میں 'بھول کرنے' کا محاورہ "بھول جانے" کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے جو غلط ہے۔
"بھول کرنا" کو "غلطی کرنا" یا "چُوک کرنا" کے معنی میں تو استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن "بھولنا" یا "بھول جانا" کے طور پر نہیں

یہ کیسی تلخ حقیقت ہے زندگی نیناں
جو خواب دیکھ چکی ہوں وہ بھول کرنے ہیں
محمد وارث — فروری 25، 2008 3:51 صبح
بہت اچھی غزل ہے فرزانہ نیناں صاحبہ، بہت داد قبول کیجیئے۔
الف عین — فروری 25، 2008 5:37 صبح
فاتح ۔ میں بھی متفق ہوں تمھاری رائے سے۔ طرحا کا استعمال قطعی وبول نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ جس شعر کو تم نے بہت پسند کیا ہے، وہ بھی اردو کا نہیں پنجابی کا محاورہ ہے۔ جہاں ’میں نے کرنا ہے‘ بولا جاتا ہے بجائے ’مجھے کرنا ہے یا مجھ کو کرنا ہے‘ کے۔ ’جسے کہ ہم پہ صحیفے نزول کرنے ہیں‘ درست ہونا چاہئے۔
الف عین — فروری 25، 2008 5:38 صبح
نیناں، تعریف تو کرنا ہی بھول گیا۔ ان اسقام کے باوجود غزل حسبِ معمول اچھی ہے۔
F@rzana — اپریل 16، 2008 1:03 صبح
نیناں، تعریف تو کرنا ہی بھول گیا۔ ان اسقام کے باوجود غزل حسبِ معمول اچھی ہے۔

:):):) کوئی بات نہیں بابا جانی، آپ کے خلوص و محبت پر مجھے پورا بھروسہ ہے اور آپ کی حوصلہ افزائی میرے لئے تازگی کا باعث، میں چاہے کئی دن محفل سے غائب رہوں لیکن آپ جیسی ہستیوں کی یاد ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہے۔
F@rzana — اپریل 16، 2008 1:08 صبح
[quote=فاتح;
فاتح، آپ کی توجہ کے لیئے ممنون ہوں کہ اسی بنا پر میں نے اپنی غلطی کو درست کردیا ہے، وہ پہلے لکھا ہوا کلام تھا جو بعد میں درست کرلیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کاپی اور پیسٹ کرتے ہوئے پہلے والا ہی یہاں سہوا لگ گیا:(
بہت بہت شکریہ:)
F@rzana — اپریل 16، 2008 1:12 صبح
فاتح ۔ میں بھی متفق ہوں تمھاری رائے سے۔

باباجانی اور فاتح صاحب ، امید ہے کہ میری بھول کا ازالہ ہوچکا ہوگا، آپ چاہیں تو اپنی اپنی پوسٹ قطع و برید کر سکتے ہیں، شکریہ
الف عین — اپریل 16، 2008 5:59 صبح
شکریہ نیناں میرے تئیں خوب صورت الفاظ کا۔
لیکن تم نے یہ مصرع ہیہ بدل دیا:
نجانے کب وہ مقدس گھڑی گزر جائے
جسے بلانے کی خاطر اصول کرتے ہیں
وہی مصرع بہتر تھا
اسے یوں کر دیں:
کہ جس کو ہم پہ وظیفے نزول کرنے ہیں
یا
جسے کہ ہم پہ۔۔۔۔۔۔ الخ
اب یہ غزل سمت کے آئندہ شمارے میں شامل ہوگی۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%AA%DB%92-%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92-%DB%94-%D9%81%D8%B1%D8%B2%D8%A7%D9%86%DB%81-%D9%86%DB%8C%D9%86%D8%A7%DA%BA.10933/