چمکتے چاند ستارے ملول کرتے ہیں
یہ تحفے ہجر کے ہم خود قبول کرتے ہیں
مجھے خبر ہی نہیں کب خیال کے جگنو
شجر پہ ذہن کے کس دم نزول کرتے ہیں
میں تھوڑی دیر چمکنے دوں گھاس پر بوندیں
خراج غم یہی تنکے وصول کرتے ہیں
یہ زندگی تو حقیقت میں ایک نعمت ہے
جو اس کو جبر سمجھتے ہیں بھول کرتے ہیں
تلاش کرنا ہے پھر سایہ ہم کو صحرا میں
خطوط دل کے وہیں پر وصول کرتے ہیں
نجانے کب وہ مقدس گھڑی گزر جائے
جسے بلانے کی خاطر اصول کرتے ہیں
رکھا ہے جس نے تعلق کو دھوپ سا نیناں
نچھاور اس پہ ہمیں جا کے پھول کرتے ہیں
یہ تحفے ہجر کے ہم خود قبول کرتے ہیں
مجھے خبر ہی نہیں کب خیال کے جگنو
شجر پہ ذہن کے کس دم نزول کرتے ہیں
میں تھوڑی دیر چمکنے دوں گھاس پر بوندیں
خراج غم یہی تنکے وصول کرتے ہیں
یہ زندگی تو حقیقت میں ایک نعمت ہے
جو اس کو جبر سمجھتے ہیں بھول کرتے ہیں
تلاش کرنا ہے پھر سایہ ہم کو صحرا میں
خطوط دل کے وہیں پر وصول کرتے ہیں
نجانے کب وہ مقدس گھڑی گزر جائے
جسے بلانے کی خاطر اصول کرتے ہیں
رکھا ہے جس نے تعلق کو دھوپ سا نیناں
نچھاور اس پہ ہمیں جا کے پھول کرتے ہیں