چند اشعار ۔ جب اتفاقی شاعر تھا

اتفاقی — جولائی 26، 2019 7:46 شام

چند اشعار ۔ جب شاعر تھا
اب اصلاح بے سود ہے
۱۹۹۵ میں ڈائیری میں لکھے گئے چند اشعار
ہم بھی ہیں اتفاقی تم بھی تھے اتفاقی
تم بھی رہے نہ باقی نہ ہم ہی رہیں گے باقی
بوتل سے کہہ رہا تھا اجڑا ہوا شرابی
تو میرے یار سی ہے میں ہوا ہوں تیرا عادی
کیسے نہ ان کا ہوتا ، کرتا نہ دل بغاوت ؟
ان سازشوں کے پیچھے وہ ہونٹ تھے گلابی
آنے کو ہیں بہاریں اجڑے ہوئے چمن میں
تم اپنے اپنے جا کر کر لو تلاش ساقی
اتفاقی
انس معین — جولائی 26، 2019 7:53 شام
ظلم کیا چھوڑ کر۔۔۔
اتفاقی — جولائی 26، 2019 7:54 شام
ظلم کیا چھوڑ کر ۔۔۔
کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد o_O

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%86%D9%86%D8%AF-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%DB%94-%D8%AC%D8%A8-%D8%A7%D8%AA%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%D8%AA%DA%BE%D8%A7.107808/