زھرا علوی — اپریل 15، 2008 1:33 شام
"ڈھلتی ہوئی اس شب کا سفر دیکھ رہے ہیں
اک ہجر میں اک وصل مگر دیکھ رہے ہیں
ہونٹوں پہ سلگتی ہوئی تشنہ سی قیامت
آنکھوں میں بپا ایک حشر دیکھ رہے ہیں
ترتیبِ تخیّل کی یہ ناکام سی کاوش
اور جہدِ مسلسل کا ثمر دیکھ رہے ہیں"
زہرا علوی
ابن سعید — اپریل 15، 2008 1:53 شام
میں تعریف کرونگا تو لوگ کہیں گے کی سعود صاحب تعریف کر رہے ہیں

اس لئے اتنا کہوں گا کہ
آنکھوں میں بپا ایک حشر دیکھ رہے ہیں
میں حشر کے صحیح تلفظ میں مجھے شبہ ہے۔ اگر ش پر زبر کے ساتھ ہے تو خیر ورنہ ساکن ہوا تو اساتذہ گوش مالی کریں گے آپ کی۔

زھرا علوی — اپریل 15، 2008 2:04 شام
ہم گوش مالی کے لیئے حاضر ہیں دل و جان سے
ویسے بھیا جی اس کا مطلب کیا ہے؟

ابن سعید — اپریل 15، 2008 2:17 شام
ہم گوش مالی کے لیئے حاضر ہیں دل و جان سے
ویسے بھیا جی اس کا مطلب کیا ہے؟
پریشان مت ہویئے اساتذہ کا عمل بذات خود مفہوم ہو جائے گا۔

زھرا علوی — اپریل 15، 2008 2:23 شام
یعنی میں اپنے کان کھینچے جانے کا انتظار کروں۔۔۔۔۔۔

ابن سعید — اپریل 15، 2008 2:31 شام
ہا ہا ہا ہا ہا
کون سی لغت سے دیکھ لیا

خیر یہ بات میں نہیں کہہ رہا آپ ہی کہہ رہی ہیں۔

زھرا علوی — اپریل 15، 2008 2:35 شام
کہنا ہی پڑا تھوڑی سی حقیقت پسند ہوں

ابن سعید — اپریل 15، 2008 2:40 شام
وہ تو آپ کے اشعار سے ہی واضح ہو جاتا ہے

الف عین — اپریل 15، 2008 6:12 شام
اشعار خوب ہیں زہراء لیکن سعود کی بات درست ہے۔ حشر میں ش ساکن ہے، اس لئے قافیہ ہی غلط ہو گیا ہے۔ اس کو تبدیل کر دیں۔
محمد وارث — اپریل 16، 2008 5:02 صبح
بہت اچھے اشعار ہیں آپ کے زھرا علوی صاحبہ، بہت داد قبول کیجیئے۔
ابنِ سعید صاحب کی بات بالکل بجا ہے، دوسرے شعر کا قافیہ غلط ہو گیا ہے سو مکمل تبدیلی چاہتا ہے۔
زھرا علوی — اپریل 16، 2008 10:20 صبح
"ہونٹوں پہ سلگتی ہوئی تشنہ سی قیامت
آنکھوں میں تباہ ایک دہر دیکھ رہے ہیں"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے مصرعے مٰن تبدیلی کی کوشش کی ہے
اساتذہ کی رائے درکار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابن سعید — اپریل 16، 2008 10:37 صبح
دہر زمانے کے معنی میں؟
پر اس کا بھی عین کلمہ ساکن ہے۔ (اردو کا کنفرم نہیں کہہ سکتا پر عربی میں تو دھر کا ہ ساکن ہے)
ارشاد ربانی ہے:
ھل اتیٰ علیٰ الانسان حین من الدھر لم یکن شیئا مذکورہ (سورۃ الدھر)
زھرا علوی — اپریل 16، 2008 10:54 صبح
بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا بدلتی ہوں اسے بھی
ابن سعید — اپریل 16، 2008 10:57 صبح
میری عادت ہے کہ جب کبھی اعتراض کرتا ہوں تو کوئی متبادل بھی بتانے کی کوشش کرتا ہوں پر کیا کروں عقل شریف میں کوئی شگوفہ بھی نہیں کھل رہا۔ اور دوسرے اساتذہ سے مرعوب ہوں سو الگ۔

الف عین — اپریل 16، 2008 7:13 شام
دہر کے تلفظ کی غلطی ہی نہیں، اس مصرعے میں تو تباہ کا الف بھی گر رہا ہے۔
آنکھوں میں کھنڈر قافیہ کچھ فٹ ہو، لیکن مصرع مکمل بدلنا پڑے گا۔