چند متفرق اشعار

نوشین فاطمہ عبدالحق — مارچ 29، 2017 6:34 شام
1) عذاب عشق کی خاطر مجھے چنا
کمال حسن نظر ہے جناب کا !
2)دن رات سرد آہیں ، ہر وقت اضطراب
بعد از فراق نوشی ! قصہ تمام شد
3)دشت پیما کو سبزہ زار اس لیے خوش آتا نہیں
کوئی گل دیکھے تو کوئی گل بدن یاد آ جاتا ہے
4)موت کو بھی مات دینے چلا میرا ہنر
وقت سے آگے نکل اے مری عمر رواں !
5)ہم چراغ ایسا دکھاتے جو بجھاتا سورج
اپنی تعریف کا تھوڑا سا اگر حق دیتے
6)دلنشیں ہی نہیں ، چاند تنہا بھی تھا
موج کی سرکشی اور بڑھنے لگی
7)دل پھپھولوں سے بھر گیا نوشی !
خوں نہ تھوکا گیا نہ شعر ہوا ۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — مارچ 29، 2017 6:42 شام
دن رات سرد آہیں ، ہر وقت اضطراب
بعد از فراق نوشی ! قصہ تمام شد
بہت ہی اعلیٰ ، اور بے مثال
موت کو بھی مات دینے چلا میرا ہنر
وقت سے آگے نکل اے مری عمر رواں !
بہت خوب
خوں نہ تھوکا گیا نہ شعر ہوا ۔
یہاں "نہ" کی تکرار تھوڑا عجیب سی لگ رہی ہے ۔
خوں تھوکا گیا نہ شعر ہوا
شاید زیادہ بہتر ہو سکتا تھا ۔ باقی مجھے شاعری کی تکنیکی چیزوں کی الف بے بھی نہیں پتا بس مجھے لگا تو میں نے کہہ دیا ۔
نوشین فاطمہ عبدالحق — مارچ 29، 2017 6:55 شام
بہت ہی اعلیٰ ، اور بے مثال
بہت خوب
یہاں "نہ" کی تکرار تھوڑا عجیب سی لگ رہی ہے ۔
خوں تھوکا گیا نہ شعر ہوا
شاید زیادہ بہتر ہو سکتا تھا ۔ باقی مجھے شاعری کی تکنیکی چیزوں کی الف بے بھی نہیں پتا بس مجھے لگا تو میں نے کہہ دیا ۔
یوں ہو سکتا تھا ،
"خون تھوکا گیا نہ شعر ہوا"
اس سے یہ مطلب نکلتا ہے ،
"یا تو خون تھوکا جانا چاہیے یا پھر شعر کہنا چاہیے مرض قلب کیلیے"
جبکہ یہ کہنا میری مراد نہیں ، میں یہ کہنا چاہتی ہوں ،
"خون تھوکا جانا چاہیے یا اسی خون کو شعر میں ڈھل جانا چاہیے ، خوں کو شعر ہوجانا چاہیے"
اب یہ شعر ایک بار پھر پڑھیے۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — مارچ 29، 2017 7:01 شام
"خون تھوکا جانا چاہیے یا اسی خون کو شعر میں ڈھل جانا چاہیے ، خوں کو شعر ہوجانا چاہیے"
اب یہ شعر ایک بار پھر پڑھیے۔
راحیل فاروق سر پلیز مدد کے لیے آئیں ۔ تھوڑی کنفیوژن دور کر دیں میری :sad2:
مسافرشب — مارچ 29، 2017 7:05 شام
درد کی ضرورت ہے
ورنہ کیا قباحت ہے
محمد ریحان قریشی — مارچ 29، 2017 7:07 شام
خوب اشعار ہیں صاحبہ!
عذاب عشق کی خاطر مجھے چنا
کمال حسن نظر ہے جناب کا !
رواں بحر ہے اگرچہ مستعمل نہیں۔
دشت پیما کو سبزہ زار اس لیے خوش آتا نہیں
کوئی گل دیکھے تو کوئی گل بدن یاد آ جاتا ہے
عروض ڈاٹ کام کی وساطت سے معلوم ہوا ہے کہ یہ اشعار بحرِ خفیف سالم میں ہیں۔ اس بحر کا استعمال میں نے تو آج تک نہیں دیکھا اور مجھے یہ رواں بھی محسوس نہیں ہوتی۔
موت کو بھی مات دینے چلا میرا ہنر
وقت سے آگے نکل اے مری عمر رواں !
پہلے مصرع کے ایک حصے کا اختتام دینے کے دے پر ہو رہا ہے یوں جملہ ٹوٹ رہا ہے۔
راحیل فاروق — مارچ 29، 2017 7:26 شام
راحیل فاروق سر پلیز مدد کے لیے آئیں ۔ تھوڑی کنفیوژن دور کر دیں میری :sad2:
خاتون درست فرما رہی ہیں، مسیحا!
کہنا یہ چاہتی ہیں کہ خون نہ تو تھوک سکے اور نہ شعر ہی کی صورت ميں اس کا جوش نکلا۔ ایک تیسری صورت پیدا ہو گئی یعنی وہ دل کے پھپھولوں کی صورت ميں مجسم ہو گیا۔
اگر اسے آپ کی تجویز کردہ بنت میں بیان کیا جائے تو مفہوم مبہم ہو جاتا ہے۔ زور اصل میں مصرعِ اولیٰ و ثانی دونوں میں خون ہی پر ہے۔ یعنی تینوں بیان کردہ صورتیں اصل میں جوششِ خون کے اظہار کے مختلف طریقے ہیں جن ميں سے شاعرہ نے ایک کو ترجیح دی ہے۔
بہت اچھا خیال ہے، بی بی۔ ہماری جانب سے بھی بہت سی داد۔ اور ہاں، ریحان کا نکتہ محلِ نظر ہے۔ غیر معروف بحروں کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ اس پر غور کیجیے گا۔میں بھی ممکن ہوا تو کسی دن اس پر تفصیلی بات کروں گا۔
مسیحا، یاد آوری پر آپ کا بھی شکر گزار ہوں!
نوشین فاطمہ عبدالحق — مارچ 29، 2017 7:33 شام
خاتون درست فرما رہی ہیں، مسیحا!
کہنا یہ چاہتی ہیں کہ خون نہ تو تھوک سکے اور نہ شعر ہی کی صورت ميں اس کا جوش نکلا۔ ایک تیسری صورت پیدا ہو گئی یعنی وہ کوشش دل کے پھپھولوں کی صورت ميں مجسم ہو گیا۔
اگر اسے آپ کی تجویز کردہ بنت میں بیان کیا جائے تو مفہوم مبہم ہو جاتا ہے۔ زور اصل میں مصرعِ اولیٰ و ثانی دونوں میں خون ہی پر ہے۔ یعنی تینوں بیان کردہ صورتیں اصل میں جوششِ خون کے اظہار کے مختلف طریقے ہیں جن ميں سے شاعرہ نے ایک کو ترجیح دی ہے۔
بہت اچھا خیال ہے، بی بی۔ ہماری جانب سے بھی بہت سی داد۔ اور ہاں، ریحان کا نکتہ محلِ نظر ہے۔ غیر معروف بحروں کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ اس پر غور کیجیے گا۔میں بھی ممکن ہوا تو کسی دن اس پر تفصیلی بات کروں گا۔
مسیحا، یاد آوری پر آپ کا بھی شکر گزار ہوں!
میں دراصل یوں کرتی ہوں کہ جیسے ہی ذہن میں کوئی خیال آتا ہے یک سطری صورت میں ، معلوم کرتی ہوں کہ کس بحر میں ہے ۔ یا کس بحر کے قریب تر ہے ۔ اگر موزون ہوتا ہے تو اسی بحر میں دوسرا مصرع کہہ دیتی ہوں اگر موزون نہیں ہوتا تو قریب ترین بحر میں ڈھال کر دوسرا مصرع بھی اسی بحر میں کہہ دیتی ہوں ۔ میرے خیال میں خیال کو ضائع ہونے سے بچانے کیلیے ایسا کیا جائے تو کوئی قباحت نہیں ۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — مارچ 29، 2017 7:54 شام
خاتون درست فرما رہی ہیں، مسیحا!
کہنا یہ چاہتی ہیں کہ خون نہ تو تھوک سکے اور نہ شعر ہی کی صورت ميں اس کا جوش نکلا۔ ایک تیسری صورت پیدا ہو گئی یعنی وہ کوشش دل کے پھپھولوں کی صورت ميں مجسم ہو گیا۔
اگر اسے آپ کی تجویز کردہ بنت میں بیان کیا جائے تو مفہوم مبہم ہو جاتا ہے۔ زور اصل میں مصرعِ اولیٰ و ثانی دونوں میں خون ہی پر ہے۔ یعنی تینوں بیان کردہ صورتیں اصل میں جوششِ خون کے اظہار کے مختلف طریقے ہیں جن ميں سے شاعرہ نے ایک کو ترجیح دی ہے۔
مسیحا، یاد آوری پر آپ کا بھی شکر گزار ہوں!
سارے مصرعوں میں خون ہی خون نظر آ رہا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ خاتون درست فر ما رہی ہیں ۔ ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے میرا حق بنتا ہے کہ خون کم سے کم ضائع ہو ۔:ROFLMAO:
عاطف ملک — مارچ 30، 2017 2:15 شام
نوشین فاطمہ عبدالحق صاحبہ!..ماشا اللہ بہت ہی خوبصورت اشعار ہیں۔
میں دراصل یوں کرتی ہوں کہ جیسے ہی ذہن میں کوئی خیال آتا ہے یک سطری صورت میں ، معلوم کرتی ہوں کہ کس بحر میں ہے ۔ یا کس بحر کے قریب تر ہے ۔ اگر موزون ہوتا ہے تو اسی بحر میں دوسرا مصرع کہہ دیتی ہوں اگر موزون نہیں ہوتا تو قریب ترین بحر میں ڈھال کر دوسرا مصرع بھی اسی بحر میں کہہ دیتی ہوں ۔ میرے خیال میں خیال کو ضائع ہونے سے بچانے کیلیے ایسا کیا جائے تو کوئی قباحت نہیں ۔
میں اس معاملے میں کافی سست واقع ہوا ہوں اور لکھنے میں کوتاہی کرتا ہوں.
اس لیے میری صلاح یہی ہے کہ اپنے اس طریق کو جاری رکھیں،لیکن ان متفرق اشعار کو غزل یا کسی اور صنف کی شکل دینے کی حتی الوسع کوشش کیا کریں۔
آپ کے اشعار پر ایک بار پھر داد۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ :)
محمد تابش صدیقی — مارچ 30، 2017 2:18 شام
بہت عمدہ اشعار ہیں. داد قبول کیجیے.
اس پر غور کیجیے گا۔میں بھی ممکن ہوا تو کسی دن اس پر تفصیلی بات کروں گا۔
جی آپ کی بات بالکل سمجھ آ گئی ہے. بچے نے ویسے ہی ٹیگ کر دیا تھا، معاف کر دیجیے.
نوشین فاطمہ عبدالحق — مارچ 30، 2017 2:27 شام
نوشین فاطمہ عبدالحق صاحبہ!..ماشا اللہ بہت ہی خوبصورت اشعار ہیں۔
میں اس معاملے میں کافی سست واقع ہوا ہوں اور لکھنے میں کوتاہی کرتا ہوں.
اس لیے میری صلاح یہی ہے کہ اپنے اس طریق کو جاری رکھیں،لیکن ان متفرق اشعار کو غزل یا کسی اور صنف کی شکل دینے کی حتی الوسع کوشش کیا کریں۔
آپ کے اشعار پر ایک بار پھر داد۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ :)
شکریہ
سلامت رہیں
نوشین فاطمہ عبدالحق — مارچ 30، 2017 2:28 شام
بہت عمدہ اشعار ہیں. داد قبول کیجیے.
جی آپ کی بات بالکل سمجھ آ گئی ہے. بچے نے ویسے ہی ٹیگ کر دیا تھا، معاف کر دیجیے.
شکریہ
La Alma — مارچ 30، 2017 4:45 شام
5)ہم چراغ ایسا دکھاتے جو بجھاتا سورج
اپنی تعریف کا تھوڑا سا اگر حق دیتے
6)دلنشیں ہی نہیں ، چاند تنہا بھی تھا
موج کی سرکشی اور بڑھنے لگی
بہت umdah .
نوشین فاطمہ عبدالحق — مارچ 30، 2017 7:31 شام
سلامت۔رہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%86%D9%86%D8%AF-%D9%85%D8%AA%D9%81%D8%B1%D9%82-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1.95541/