چند ٹکّوں کے۔

رشید حسرت — جنوری 11، 2020 8:26 صبح
چند ٹکّوں کے سبب سر جو اکڑ جاتے ہیں
ایسے سر چھوڑ کہیں دور کو دھڑ جاتے ہیں
سچ کے پارس کو پرکھنے کا سلیقہ سیکھو
جھوٹ پھر جھوٹ ہیں لمحات میں گھڑ جاتے ہیں
دل کا یہ زخم نہ بھرنے کا سبب تو ھوگا
سوزِ احساس سے ٹانکے جو اُدھڑ جاتے ہیں
جنگ لڑتے ہیں جو اوروں کے مقاصد کے لیئے
آخرِ کار وہ جنجال میں پڑ جاتے ہیں
جن کے ھونٹوں پہ خموشی کی مُہر ھوتی ھے
زیست کے پیڑ سے چپ چاپ وہ جھڑ جاتے ہیں
نکتہ چینوں سے کہو، بات کا حاصل کیا ھے؟
بات بے بات یہ نکتوں پہ جو اڑ جاتے ہیں
کون ھوتا ھے سدا ساتھ نبھانے والا
سب ہی دو چار قدم چل کے بچھڑ جاتے ہیں
یوں تو پت جھڑ میں سبھی پیڑ اُجڑتے ہیں مگر
ھم سی٘ہ بخت بہاروں میں اُجڑ جاتے ہیں
حسرتِ گل میں سبھی بھول گئے تھے کانٹے
کیا خبر تھی کہ یوں حالات بدل جاتے ہیں۔
رشید حسرتؔ، کوئٹہ۔
امجد علی راجا — جنوری 16، 2020 8:35 شام
ماشاءاللہ عمدہ کلام
داد قبول فرمائیں
انس معین — جنوری 16، 2020 8:43 شام
بہت خوب
ظہیراحمدظہیر — جنوری 16، 2020 8:43 شام
رشیدحسرت صاحب ۔ ایک نظر پہلے دو اشعار اور مقطع کو پھر دیکھ لیجئے ۔ سخت گڑبڑ ہے ۔
رشید حسرت — جنوری 17، 2020 6:36 صبح
ماشاءاللہ عمدہ کلام
داد قبول فرمائیں
بڑی مہربانی امجد علی راجہ صاحب، عزّت افزائی کا بہت شکریہ۔
رشید حسرت — جنوری 26، 2020 4:33 شام
بڑی مہربانی امجد علی راجہ صاحب، عزّت افزائی کا بہت شکریہ۔
بڑی عنایت جناب کی۔ خوش رہیئے، آباد رہیئے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%86%D9%86%D8%AF-%D9%B9%DA%A9%D9%91%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92%DB%94.109950/