جیا راؤ — مئی 12، 2008 3:28 شام
موتیے سے زلف، عنبر سے مہکتی چوڑیاں
یاد آئیں لمس سے اس کے دہکتی چوڑیاں
دیکھ کر سونی کلائی یاد آئے تیری بات
"جان لیں میری،تری ہر دم کھنکتی چوڑیاں"
چھین لیں جاگیرِ دل حسیں ہتھیار یہ
کر دیں گھائل پایلیں، جھومر، کھنکتی چوڑیاں
حادثہ گزرا ہے کیا لڑکی پہ بڑھ کر پوچھنا
نم ہیں آنکھیں دیکھ کر اس کی دمکتی چوڑیاں
جانتا ہے وہ ادا مجھ کو منانے کی جیا
شعر لے آتا ہے کچھ، کلیاں، چمکتی چوڑیاں
الف عین — مئی 12، 2008 6:13 شام
جیا۔ غزل تو عمدہ ہے۔ مطلع میں ایطا ہے۔ کیوں کہ قافیے مہکتی اور دہکتی ہیں۔ اگر یہ قوافی مانیں تو بقیہ قوافی بھی ’ہکتی‘ مشترک والے ہوں گے۔۔ بہکتی، لہکتی وغیرہ۔ لیکن موجودہ صورت میں قوافی مہکتی، چمکتی، کبنکتی ہیں، اس لئے مطلع کے قوافی غلط بھی ہیں، اور معنی ھی واضح نہیں۔ عنبر سے مہکتی چوڑیاں؟ کای چوڑیوں میں عنبر لگایا جاتا ہے؟
محسن حجازی — مئی 13، 2008 6:39 صبح
میں پنجابی والی چوڑیاں سمجھا۔

زینب — مئی 13، 2008 6:41 صبح
بہت اچھی غزل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
محمداحمد — مئی 13، 2008 7:03 صبح
حادثہ گزرا ہے کیا لڑکی پہ بڑھ کر پوچھنا
نم ہیں آنکھیں دیکھ کر اس کی دمکتی چوڑیاں
واہ ! بہت خوب
جیا راؤ — مئی 14، 2008 4:44 شام
جیا۔ غزل تو عمدہ ہے۔ مطلع میں ایطا ہے۔ کیوں کہ قافیے مہکتی اور دہکتی ہیں۔ اگر یہ قوافی مانیں تو بقیہ قوافی بھی ’ہکتی‘ مشترک والے ہوں گے۔۔ بہکتی، لہکتی وغیرہ۔ لیکن موجودہ صورت میں قوافی مہکتی، چمکتی، کبنکتی ہیں، اس لئے مطلع کے قوافی غلط بھی ہیں، اور معنی ھی واضح نہیں۔ عنبر سے مہکتی چوڑیاں؟ کای چوڑیوں میں عنبر لگایا جاتا ہے؟
بہت شکریہ استادِ محترم
"ایطا" ہمارے بھی پیشِ نظر تھا مگر پھر بھی لکھ گئے۔

اس مصرعے کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ کے وقت کا بےحدشکریہ

جیا راؤ — مئی 14، 2008 4:45 شام
میں پنجابی والی چوڑیاں سمجھا۔
پنجابی میں کوئی اور چوڑیاں ہوتی ہیں؟

جیا راؤ — مئی 14، 2008 4:45 شام
شکریہ زینب

جیا راؤ — مئی 14، 2008 4:46 شام
حادثہ گزرا ہے کیا لڑکی پہ بڑھ کر پوچھنا
نم ہیں آنکھیں دیکھ کر اس کی دمکتی چوڑیاں
واہ ! بہت خوب
شکریہ جناب

یونس رضا — مئی 14، 2008 5:13 شام
بہترین تخلیق ہے ۔۔۔۔ جاری رکھیئے
جیا راؤ — مئی 14، 2008 5:39 شام
شکریہ جناب

محب علوی — مئی 14، 2008 6:05 شام
عمدہ اور اعجاز صاحب کی اصلاح سے اور خوب کر لیجیے ۔ ہوسکتا ہے اسی اثنا میں چند اشعار اور سوجھ جائیں
فاتح — مئی 14، 2008 7:35 شام
قوافی میں ایطا کے باوجود بہت خوبصورت غزل ہے۔ واہ