چھوڑ کر اس کی راہ گھر جاؤں ۔

عظیم — اکتوبر 17، 2017 8:11 صبح
غزل
چھوڑ کر اس کی راہ گھر جاؤں
اس سے بہتر ہے یونہی مر جاؤں
میری قسمت میں ہے یہ رسوائی
فائدہ کیا اگر سنور جاؤں
مجھ کو آئیں خوش آمدیں کرنا
سب کے دل میں ابھی اتر جاؤں
آنے والا ہے وقتِ ظہر قریب
پھر سے مسجد کی راہ پر جاؤں
عشق ہے دل لگی نہیں ہے کوئی
چار لوگوں سے جو میں ڈر جاؤں
کاش رو لوں میں آج کی شب خوب
اور پھر روح تک نکھر جاؤں
بڑھتا جاتا ہے دن بہ دن یہ شوق
میں پیالہ نہیں جو بھر جاؤں
دور وہ دن نہیں کہ میں بھی عظیم
دل میں لوگوں کے راہ کر جاؤں
******
محمد عظیم تاج
سید عمران — اکتوبر 17، 2017 10:47 صبح
رواں، دل نشین اور نہایت عام فہم شاعری۔۔۔
مزہ آتا ہے آپ کے اشعار پڑھنے میں!!!
عظیم — اکتوبر 17، 2017 10:51 صبح
رواں، دل نشین اور نہایت عام فہم شاعری۔۔۔
مزہ آتا ہے آپ کے اشعار پڑھنے میں!!!
جزاک اللہ بھائی ۔ میں تو سمجھتا تھا کہ شاید کوئی پسند ہی نہیں کرتا ۔
الف عین — اکتوبر 17، 2017 5:03 شام
اچھی غزل ہے، بس ایک شعر پسند نہیں آیا۔
مجھ کو آئیں خوش آمدیں کرنا
سب کے دل میں ابھی اتر جاؤں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91-%DA%A9%D8%B1-%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%DB%81-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%DB%94.98722/