زھرا علوی — اپریل 1، 2011 10:28 صبح
سرکش و مست اور گہرا ہے
کاسنی رنگ مجھ پہ ٹھہرا ہے ۔۔
تو بھلا کیسے مجھ کو دیکھے گا
تری آنکھوں پہ شب کا پہرا ہے۔۔
فاتح — اپریل 1، 2011 3:59 شام
واہ۔۔۔ خوبصورت جذبات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ایک مختصر اور سادہ نظم۔ مبارکباد
ابن سعید — اپریل 1، 2011 5:54 شام
فیس بک پر ہم نے اس شعر کا حق ادا کر دیا تھا، یہاں بقول مغل بھائی رسید پیش کر رہے ہیں گیارہ آنے کی۔

زھرا علوی — اپریل 1، 2011 6:03 شام
شکریہ فاتح صاحب بہت بہت۔۔!!
زھرا علوی — اپریل 1، 2011 6:04 شام
رسید کوئی نہیں جی، آپ پھر آتے ہی نہیں، پورے پیسے دے کے جائیں۔۔

ابن سعید — اپریل 1، 2011 6:22 شام
بٹیا رانی آپ کو علم نہیں کہ ایک آنہ چھ پیسوں سے بھی زیادہ ہوتا ہے؟ ہم نے تو پورے گیارہ آنے کی رسید دی ہے۔
ایس فصیح ربانی — اپریل 7، 2011 6:25 صبح
اچھا قطعہ ہے، داد پیش ہے
الف عین — اپریل 17، 2011 6:41 شام
میری دانست میں غزل کے دونوں شعر اچھے ہیں۔ بہت خوب۔ مکمل غزل بھی پوسٹ کرو!!