نذر حسین ناز — اپریل 7، 2015 9:09 صبح
ہم کالے ہیں۔
آئینے سے پوچھ کے دیکھو
گورے دکھنے والے چہرے سب کالے ہیں۔
چاہے کتنے رنگ چڑھائیں
لیکن پھر بھی من کالا ہے
میری یہ تہذیب بھی کالی
شہروں کے ماتھے پہ کالک، گاؤں کالے
کالے دھن اور کالے من سے لتھڑے ہوئے یہ گھر کالے ہیں
اپنے آپ سے باہر آ کر
چار قدم کی دوری سے میں
اپنا چہرہ دیکھ رہا ہوں
سوچ رہا ہوں میرے اندر کتنی کالک پھیل گئی ہے
اندر کا یہ کالا پن کب چھپ سکتا ہے
سورج میری آنکھ پہ آ کر رقص کرے یا
چاند میری آنکھوں میں اپنا عکس اتارے
کالے پن سے باہر آنا ناممکن ہے
باندھ رکھا ہے کالا کپڑا آنکھوں پر
بچپن ہی سے دیکھ رہا ہوں کالے خواب
------------------------------
نذر حُسین ناز
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 7، 2015 9:58 صبح
گورے دکھنے والے چہرے سب کالے ہیں۔
اردو میں دیکھنا تو استعمال ہوتا ہے لیکن دکھنا استعمال نہیں ہوتا۔ دیکھ لیجیے
نذر حسین ناز — اپریل 7، 2015 10:02 صبح
اردو میں دیکھنا تو استعمال ہوتا ہے لیکن دکھنا استعمال نہیں ہوتا۔ دیکھ لیجیے
دکھائی دینے کو دکھنا ہی کہا جائے گا شاید ۔ ۔ پھر بھی آپ کی رائے معتبر ہے۔ آپ مزید بتا دیجیے۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 7، 2015 10:11 صبح
نذر حسین ناز بھائی، ہماری رائے ہرگز معتبر نہیں۔ ہم نے جو محسوس کیا بلا تکلف بتلادیا۔ اعتبار کے لیے ہم اساتذہ سے رجوع کرتے ہیں
محترم
الف عین ، محترم
محمد یعقوب آسی
فاروق احمد بھٹی — اپریل 7، 2015 2:10 شام
نذر حسین ناز بھائی آپ سے ایک سوال ہے کہ یہ نظم نثری ہے یا آزاد ہے
ادب دوست — اپریل 7، 2015 2:17 شام
میرا بھی یہی خیال ہے "دکھنا" اور "دکھتا" غلط ہے
فاروق احمد بھٹی — اپریل 7، 2015 2:22 شام
میرا بھی یہی خیال ہے "دکھنا" اور "دکھتا" غلط ہے
ویسے تو کوئی ماہر ہی رائے دے سکتا ہے اس بارے میں مگر پھر
دکھائی دینا، راستہ
دکھانا وغیرہ کی وضاحت بھی ضروری ہے
نذر حسین ناز — اپریل 7، 2015 4:11 شام
نثری نظم کسی وزن میں نہیں ہوتی۔
میری ناقص رائے میں تو یہ نظم آزاد ہے لیکن پابندِ بحر ہے۔
اب بحر کون سی ہے۔ وزن کیا ہے۔ اس معاملے میں میں بالکل کورا ہوں۔ اساتذہ بتا سکتے ہیں۔ یا پھر جو احباب عروض جانتے ہوں۔
ادب دوست — اپریل 7، 2015 6:48 شام
ویسے تو کوئی ماہر ہی رائے دے سکتا ہے اس بارے میں مگر پھر دکھائی دینا، راستہ دکھانا وغیرہ کی وضاحت بھی ضروری ہے
جی یہی سہی ہے
الف عین — اپریل 8، 2015 6:25 شام
دکھنا بمعنی دکھائی دینا قطعی درست ہے، اگرچہ فصیح نہیں ہے۔ البتہ ہندوستان میں کچھ کو ’دیکھنا‘ (ی پر کھڑا زیر) بھی باندھتے دیکھا گیا ہے جو ہندی میں جائز ہی نہیں، فصیح تر ہے۔
نظم اچھی ہے۔ فعل فعولن یا فعلن فعلن کے ارکان پر بحر متقارب بحر میں۔
سید عاطف علی — اپریل 8، 2015 7:16 شام
دکھنا بمعنی دکھائی دینا قطعی درست ہے، اگرچہ فصیح نہیں ہے۔ البتہ ہندوستان میں کچھ کو ’دیکھنا‘ (ی پر کھڑا زیر) بھی باندھتے دیکھا گیا ہے جو ہندی میں جائز ہی نہیں، فصیح تر ہے۔
نظم اچھی ہے۔ فعل فعولن یا فعلن فعلن کے ارکان پر بحر متقارب بحر میں۔
یہ ہندی ہی نہیں بلکہ اردو کے قدرے قدیم لہجے سے بھی موافق ہے ۔ اب بھی کچھ پرانے لوگ چاند" دی کھ گیا " وغیرہ استعمال کرتے ہیں جو فطری طور پر زبان کو خالص رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
تاہم اردو میں اب دکھنا عوامی لہجہ بن گیا ہے اور سنجیدہ اور رسمی زبان میں بہت ناہموار محسوس ہوتا ہے ۔موجودہ صحیح شکل دکھائی دینا ہے۔
نذر حسین ناز — اپریل 9، 2015 12:35 صبح
دکھنا بمعنی دکھائی دینا قطعی درست ہے، اگرچہ فصیح نہیں ہے۔ البتہ ہندوستان میں کچھ کو ’دیکھنا‘ (ی پر کھڑا زیر) بھی باندھتے دیکھا گیا ہے جو ہندی میں جائز ہی نہیں، فصیح تر ہے۔
نظم اچھی ہے۔ فعل فعولن یا فعلن فعلن کے ارکان پر بحر متقارب بحر میں۔
بہت شکریہ استادِ محترم !