کام کیا دنیا میں مجھ بیمار کا

عظیم — جولائی 25، 2022 5:25 شام
غزل
کام کیا دنیا میں مجھ بیمار کا
ذکر کرنے کے سوا اس یار کا
اس طرف چاہے ہو ذلت بے بہا
مجھ کو دھڑکا ہے فقط اس پار کا
اور کوئی گھر بھی کر پائے گا کیوں
دل مکاں ہے بس مرے دلدار کا
رنج دنیا کے بھگا دیتا ہے سب
یاد آ جانا کسی غم خوار کا
میں بھی روتا ہوں وہی رونا جو سب
رو گئے دنیا میں اک آزار کا
ناتواں ایسا کہ بس لقمہ ہوں اک
میں کسی کی چشم کے اک وار کا
ہے کوئی ثانی جو سر اونچا نہ ہو
میرے آقا کا مری سرکار کا
یاد رہ رہ کے مجھے آتا ہے وہ
چھیڑنا اس کا یہ دل کے تار کا
رات دن گزریں دعاؤں میں عظیم
ہے یہی ہتھیار مجھ لاچار کا

شمشاد — جولائی 25، 2022 5:41 شام
اللہ خیر کرئے جی۔
عظیم — جولائی 25، 2022 5:48 شام
جی
گُلِ یاسمیں — جولائی 25، 2022 10:54 شام
بہت خوب
سلامت رہئیے۔
عظیم — جولائی 26، 2022 7:13 صبح
بہت خوب
سلامت رہئیے۔
بہت شکریہ، بڑی بی
گُلِ یاسمیں — جولائی 26، 2022 7:15 صبح
جیتے رہئیے۔ عمر دراز ہو۔ :love:
عظیم — جولائی 26، 2022 7:16 صبح
جیتے رہئیے۔ عمر دراز ہو۔ :love:
جی آمین

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%D8%A8%DB%8C%D9%85%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%A7.118698/