کبھی زمین کھینچ لی کبھی پگڑی اچھال دی

محمد اطھر طاھر — اکتوبر 18، 2016 4:07 شام
ہم نے خونِ جگر دے کر
جن کی آبیاری کی
انہی نے زخمِ جگر دے کر
میری دل آزاری کی
وہ اب پوچھتے تک نہیں
سبب میری علالت کا
جنہوں نے میرے کندھوں پر
عمر بھر سواری کی
کبھی زمین کھینچ لی
کبھی پگڑی اچھال دی
میرے مہربانوں نے
بڑی عزت ہماری کی
منہ موڑ لیا جن کے لیے
میں نے اپنی ذات سے
عداوت بدگمانی سے
انہی نےخاطر داری کی
وہی میرے مقابل ہیں
وہی مجھ سے متصادم ہیں
جن کو چارہ گر سمجھا
وہ جن پر عمر ساری کی

از قلم محمد اطہر طاہر
ہارون آباد
ایمان شہروز — اکتوبر 20، 2016 9:23 صبح
واہ بہترین
ڈاکٹرعامر شہزاد — اکتوبر 20، 2016 9:26 صبح
وہی میرے مقابل ہیں
وہی مجھ سے متصادم ہیں
جن کو چارہ گر سمجھا
وہ جن پر عمر ساری کی
واہ جناب زبردست۔۔ اعلیٰ کلام

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%86%DA%86-%D9%84%DB%8C-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%BE%DA%AF%DA%91%DB%8C-%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7%D9%84-%D8%AF%DB%8C.92576/