کرنے ہیں نچھاور تجھے کچھ لعل و گہر اور

شاکرالقادری — اگست 23، 2006 10:01 شام
تھم تھم کے برسنا ہے تجھے دیدۂ تر اور
کرنے ہیں نچھاور تجھے کچھ لعل و گہر اور
رقصاں ہے لب گل پہ بہاروں کی کہانی
آپ آئے نسیم آئی کھلا رنگ سحر اور
پلکوں پہ فروزاں ہیں دھنک رنگ ستارے
بے تاب تمنا ہے کہ بس ایک نظر اور
اک اسم دلآویز محمد ہے کہ جس سے
ہر دم ہے فزوں روشنیٔ قلب و نظر اور
جب سے ہے سنا آپ شفیع دوجہاں ہیں
اترانے لگا ہے یہ میرا دامن تر اور
جھکتی ہے جبیں واں پہ تو جھکتا ہے یہاں دل
کعبہ کا اثر اور ہے طیبہ کا اثر اور
شاکر میں ہواجب سے ثنا گوئے محمد
ہیں میرے شب وروز میرے شام وسحر اور
الف نظامی — اگست 23، 2006 10:13 شام
اک اسم دلآویز محمد ہے کہ جس سے
ہر دم ہے فزوں روشنیِ قلب و نظر اور​

سبحان اللہ
دوست — اگست 24، 2006 12:39 صبح
واہ بہت خوب۔ اچھی نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
الف عین — اگست 24، 2006 5:55 صبح
بہت خوب شاکر صاحب۔
شاکرالقادری — اگست 24، 2006 7:38 شام
نعت شریف کی پسندیدگی کا شکریہ
قیصرانی — اگست 24، 2006 7:57 شام
جزاک اللہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%86%DA%86%DA%BE%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D9%84%D8%B9%D9%84-%D9%88-%DA%AF%DB%81%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1.3825/