کسک اٹھی ہے کہیں دل میں آ چکی ہو کیا؟

احسن مرزا — نومبر 28، 2012 6:47 شام
کسک اٹھی ہے کہیں دل میں، آ چکی ہو کیا؟​
خبر ہماری محبت کی پا چکی ہو کیا؟​
نظر میں پہلی سی الفت نہیں دکھائی دی​
وہ ایک شام کا وعدہ بھلا چکی ہو کیا؟​
شبِ فراق کا غم تھا بہت گراں، لیکن!​
وصال کی بھی تمنا مٹا چکی ہو کیا؟​
قریبِ منزلِ الفت پلٹ رہی ہو تم​
تمام زخمِ مسافت بُھلا چکی ہو کیا؟​
لکھا تھا جس پہ محبت سے نام احسن کا​
ورق وہ ذات کا اپنی جلا چکی ہو کیا؟​
الف عین — نومبر 29، 2012 5:13 صبح
واہ اچھی غزل ہے۔ جون ایلیا کی یاد دلاتی ہے۔
محمد حفیظ الرحمٰن — نومبر 29، 2012 6:28 صبح
احسن مرزا صاحب بہت اچھی ٍغزل ہے۔ داد قبول کیجیے۔
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 29، 2012 6:42 صبح
بہت اچھی غزل ہے جناب۔ داد قبول کیجیے
باباجی — نومبر 29، 2012 6:43 صبح
بہت خوب احسن مرزا
بہت سی داد قبول کیجیئے
احسن مرزا — نومبر 29، 2012 7:28 صبح
آپ تمام احباب کی جانب سے حوصلہ افزائی پر بیحد ممنون ہوں!
محمد بلال اعظم — نومبر 29، 2012 7:30 صبح
واہ بہت خوب احسن بھائی۔
استادِ محترم نے بالکل درست کہا کہ آپ نے اپنی غزل سے ہمیں جون ایلیا یاد دلا دیے۔
اللہ کرے حسنِ قلم اور زیادہ
احسن مرزا — نومبر 29، 2012 7:49 صبح
واہ بہت خوب احسن بھائی۔
استادِ محترم نے بالکل درست کہا کہ آپ نے اپنی غزل سے ہمیں جون ایلیا یاد دلا دیے۔
اللہ کرے حسنِ قلم اور زیادہ

استادِ محترم اور آپ کی اس بات سے بلکل متفق ہوں یقینا غزل جون ایلیا کی یاد دلاتی ہے۔ ہمت افزائی پر بیحد شکریہ بلال۔ شاد رہئے!
امر شہزاد — جنوری 12، 2013 6:21 شام
زبردست
لکھا تھا جس پہ محبت سے نام احسن کا
ورق وہ ذات کا اپنی جلا چکی ہو کیا؟
شاید ٹائپنگ کی غلطی ہو
ورق وہ ذات کا اپنا جلا چکی ہو کیا؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D8%B3%DA%A9-%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%8C-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2-%DA%86%DA%A9%DB%8C-%DB%81%D9%88-%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%9F.56751/