کسی سے بھی نہ کبھی بستہ لب کی بات کرو

محمد ریحان قریشی — جون 19، 2018 8:04 شام
عنایتوں کی نہ غیض و غضب کی بات کرو
شکستِ رنگ کی، بزمِ طرب کی بات کرو
مری سنو تو ترانہ ہے خامشی کا بہت
کسی سے بھی نہ کبھی بستہ لب کی بات کرو
وہ عہدِ رفتہ بھی ترکیبِ شادی و غم تھا
وہ وقت بیت گیا ہے تم اب کی بات کرو
مری خطا کے نہ ہو جاؤ مرتکب تم بھی
کرو ادب سے جو مجھ بے ادب کی بات کرو
کوئی گھڑی ہے کہ ہے ماورائے وجہ و سبب
کسی گھڑی بھی نہ وجہ و سبب کی بات کرو
فسانے روزِ سیہ کے بہت ہوئے ریحان
بس آج کو کسی رخشندہ شب کی بات کرو
عرفان سعید — جون 19، 2018 8:19 شام
سبحان اللہ، سبحان اللہ! بہت شاندار غزل ریحان بھائی۔ ایک ایک شعر لاجواب۔ کیا ہی کہنے!
اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے
کوئی گھڑی ہے کہ ہے ماورائے وجہ و سبب
کسی گھڑی بھی نہ وجہ و سبب کی بات کرو
محمد ریحان قریشی — جون 19، 2018 8:27 شام
سبحان اللہ، سبحان اللہ! بہت شاندار غزل ریحان بھائی۔ ایک ایک شعر لاجواب۔ کیا ہی کہنے!
اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے
بہت نوازش سر! قائم و دائم رہیں.
الف عین — جون 19، 2018 8:38 شام
ہمیشہ کی طرح بہت خوب!
عبید انصاری — جون 20، 2018 1:07 صبح
زبردست ریحان بھائی
معظم علی کاظمی — جون 20، 2018 5:16 صبح
مری خطا کے نہ ہو جاؤ مرتکب تم بھی
کرو ادب سے جو مجھ بے ادب کی بات کرو
کوئی گھڑی ہے کہ ہے ماورائے وجہ و سبب
کسی گھڑی بھی نہ وجہ و سبب کی بات کروو
ان دو اشعار کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔
لاریب مرزا — جون 20، 2018 5:20 صبح
واہ، خوب اشعار ہیں۔
مری خطا کے نہ ہو جاؤ مرتکب تم بھی
کرو ادب سے جو مجھ بے ادب کی بات کرو
کیا کہنے!! بہت سی داد قبول کریں۔
محمد وارث — جون 20، 2018 5:51 صبح
خوب غزل ہے قریشی صاحب، لاجواب!
فاخر رضا — جون 20، 2018 5:55 صبح
ان دو اشعار کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔
پلیز مجھے بھی یہ دو اشعار سمجھا دیجیے
محمد ریحان قریشی — جون 20، 2018 7:17 صبح
ان دو اشعار کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔
پلیز مجھے بھی یہ دو اشعار سمجھا دیجیے
معذرت خواہ ہوں دراصل ابلاغ کے مسائل ہمیشہ سے رہے ہیں اور ویسے بھی اکثر شعر کم اور الفاظ کی کھیر زیادہ کہتا ہوں. اگر شعر کے ساتھ نوٹ آویزاں کرنے کی ضرورت پڑے تو شعر کا مقصد ختم ہو جاتا ہے. مختصر یہ کہ ادب والے شعر میں صرف یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ کمالِ ادب تو یہ ہے کہ کسی بے ادب کے ذکر میں بھی بے ادبی شامل نہ ہو. دوسرے شعر میں یہ کہا ہے کہ کسی وقت بھی کوئی ایسا واقعہ ہو سکتا ہے جس کہ وجہ سمجھ نہ آئے اس لیے تمام وقت اسی گفتگو میں صرف نہ کرنا چاہیے. ظہیراحمدظہیر صاحب کرم فرمائی کریں تو شاید کوئی بہتری کی صورت نظر آئے.
فاخر رضا — جون 20، 2018 7:23 صبح
کوئی گھڑی ہے کہ ہے ماورائے وجہ و سبب
کسی گھڑی بھی نہ وجہ و سبب کی بات کرو

مجھے لگا جیسے کسی عرفانیات کے مسائل پر گفتگو کی گئی ہے
معظم علی کاظمی — جون 20، 2018 7:40 صبح
معذرت خواہ ہوں دراصل ابلاغ کے مسائل ہمیشہ سے رہے ہیں اور ویسے بھی اکثر شعر کم اور الفاظ کی کھیر زیادہ کہتا ہوں.
یقینا ًمسئلہ میرے سمجھنے میں ہو گا اگر اشعار میں ہوتا تو اساتذہ نشاندہی کرتے، مگر انہوں نے تو اسے پسند کیا ہے۔
کاشف اختر — جون 21، 2018 6:02 صبح
ان دو اشعار کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔

بہت خوب شاباش! مطلب سمجھ میں آنا بھی تو نہیں چاہیے کہ آخر شنید ہے " شعر خوب معنی ندارد " {بیدل}
کاشف اختر — جون 21، 2018 6:11 صبح
عنایتوں کی نہ غیض و غضب کی بات کرو
شکستِ رنگ کی، بزمِ طرب کی بات کرو
مری سنو تو ترانہ ہے خامشی کا بہت
کسی سے بھی نہ کبھی بستہ لب کی بات کرو
وہ عہدِ رفتہ بھی ترکیبِ شادی و غم تھا
وہ وقت بیت گیا ہے تم اب کی بات کرو
مری خطا کے نہ ہو جاؤ مرتکب تم بھی
کرو ادب سے جو مجھ بے ادب کی بات کرو
کوئی گھڑی ہے کہ ہے ماورائے وجہ و سبب
کسی گھڑی بھی نہ وجہ و سبب کی بات کرو
فسانے روزِ سیہ کے بہت ہوئے ریحان
بس آج کو کسی رخشندہ شب کی بات کرو

بہت خوب ! بہت زبردست
احمد وصال — جون 24، 2018 7:13 شام
بہت عمدہ غزل جناب۔۔
شکیب — جون 24، 2018 7:46 شام
بہت خوب بھئی... اچھی غزل ہوئی ہے... بڑے دنوں بعد کوئی مراسلہ دیکھنے کو ملا...!
محمد ریحان قریشی — جون 24، 2018 8:17 شام
بہت خوب بھئی... اچھی غزل ہوئی ہے... بڑے دنوں بعد کوئی مراسلہ دیکھنے کو ملا...!
بہت نوازش شکیب بھائی. ویسے ہم سے زیادہ تو آپ غائب رہنے لگے ہیں آج کل.
امان زرگر — جون 25، 2018 1:48 شام
خوبصورت۔۔۔۔۔ تہہ در تہہ معانی، شعریت کی انتہا، سطحی مزاج و مذاق سے بالا عمدہ خیالات اور الفاظ۔۔۔۔ ابلاغ کے مسائل اس لئے کہ یہ تخیل، طرزِ بیان اور لفاظی خال خال ہی ملتی ہے آج کل کے شعراء میں۔ تو اکثر احبابِ ذوق سہل پسند ہو چکے۔ ڈھیروں داد
محمد ریحان قریشی — جون 25، 2018 1:50 شام
خوبصورت۔۔۔۔۔ تہہ در تہہ معانی، شعریت کی انتہا، سطحی مزاج و مذاق سے بالا عمدہ خیالات اور الفاظ۔۔۔۔ ابلاغ کے مسائل اس لئے کہ یہ تخیل، طرزِ بیان اور لفاظی خال خال ہی ملتی ہے آج کل کے شعراء میں۔ تو اکثر احبابِ ذوق سہل پسند ہو چکے۔ ڈھیروں داد
بہت عنایت امان بھائی۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A8%D8%B3%D8%AA%DB%81-%D9%84%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%D8%B1%D9%88.101923/