کلام زویا

زویا شیخ — اپریل 22، 2018 5:40 شام
تو مجھے چاہے تو ہر حال میں پاسکتا ہے
اور اگر بھولنا چاہے تو بھلا سکتا ہے
راز وہ سارے جو اپنوں سے چھپاےء تو نے
گر تو چاہو تو مجھے سارے بتا سکتا ہے
جان جاں تیری نظر میں کوئ ایسا ہے کیا
یاد ماضی جو مرے دل سے مٹا سکتا ہے
اپنے گھونگھٹ کو میں خود سے ہی اٹھاؤں کیوں کر
تو بھی تو رخ سے مرے پردا ہٹا سکتا ہے
میں تری ذات میں تحلیل بھی ہو سکتی ہوں
گر تو چاہے تو مجھے خود سے ملا سکتا ہے
جان زویا کوئ گر تجھسے ترا پوچھے تو
خود کو تو جان مری جان بتا سکتا ہے
زویا
جان — اپریل 22، 2018 5:52 شام
شہزاد احمد صاحب یاد آ گئے۔
کہتے ہیں۔
تم ہی کیا جذب ہو گئے مجھ میں
نام لیتا ہوں بار بار اپنا
زویا شیخ — اپریل 22، 2018 5:59 شام
شہزاد احمد صاحب یاد آ گئے۔
کہتے ہیں۔
تم ہی کیا جذب ہو گئے مجھ میں
نام لیتا ہوں بار بار اپنا
بہت خوب
جان — اپریل 22، 2018 6:12 شام
اچھا لکھتی ہیں ماشاءاللہ۔ لکھتی رہیں۔
زویا شیخ — اپریل 22، 2018 6:18 شام
بہت شکریہ جناب
زویا شیخ — اپریل 22، 2018 6:19 شام
اچھا لکھتی ہیں ماشاءاللہ۔ لکھتی رہیں۔
بہت شکریہ جناب
محمد ریحان قریشی — اپریل 22، 2018 6:36 شام
اچھی کوشش ہے.
جان زویا کوئ تجھسے ترا پوچھے تو
ٹائپو ہے شاید.
جانِ زویا کوئی گر تجھ سے ترا پوچھے تو
زویا شیخ — اپریل 22، 2018 6:42 شام
.​

ٹائپو ہے شاید.
جانِ زویا کوئی گر تجھ سے ترا پوچھے تو[/QUOTE]
زویا شیخ — اپریل 22، 2018 6:43 شام
.​

ٹائپو ہے شاید.
جانِ زویا کوئی گر تجھ سے ترا پوچھے تو
[/QUOTE]
زویا شیخ — اپریل 22، 2018 6:43 شام
[/QUOTE]
بہت شکریہ جناب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%B2%D9%88%DB%8C%D8%A7.101025/