کلامِ تازہ آپ کی محبتوں کی نذر

عبدالوہاب سخن — اکتوبر 12، 2017 3:48 شام
غزل
حال سے بے حال کرنے لگ گئیں
خواہشیں پامال کرنے لگ گئیں
دھوپ میں بیٹھی ہوئی عمریں کئی
ذکرِ مال و سال کرنے لگ گئیں
کیسے کیسے ذائقے رخصت ہوئے
لذتیں ہڑتال کرنے لگ گئیں
چاہتا تھا اُن سے حالِ دل کہوں
وہ کسی کو کال کرنے لگ گئیں
کچھ ہوائیں جان کر مجھ کو چراغ
پرسشِ احوال کرنے لگ گئیں
نیند سے بیدار آنکھیں جب ہوئیں
دور مایا جال کرنے لگ گئیں
دل سے اٹھیں کچھ تمنائیں سخنؔ
شکوئہ اعمال کرنے لگ گئیں
عبدالوہاب سخن
عینی مروت — اکتوبر 14، 2017 12:12 شام
دھوپ میں بیٹھی ہوئی عمریں کئی
ذکرِ ماہ و سال کرنے لگ گئیں
وااہ بہت خوب جناب
الف عین — اکتوبر 15، 2017 5:05 صبح
معاف کرنا ردیف پسند نہیں آئی۔ لگیں ہی محاورے کے لحاظ سے درست ہے۔
مایا جال کو فعل بنانا بھی عجیب ہے
عبدالوہاب سخن — اکتوبر 17، 2017 8:40 شام
دھوپ میں بیٹھی ہوئی عمریں کئی
ذکرِ ماہ و سال کرنے لگ گئیں
وااہ بہت خوب جناب
بہت شکریہ نوازش عینی مروت صاحبہ
عبدالوہاب سخن — اکتوبر 17، 2017 8:47 شام
معاف کرنا ردیف پسند نہیں آئی۔ لگیں ہی محاورے کے لحاظ سے درست ہے۔
مایا جال کو فعل بنانا بھی عجیب ہے
شکریہ الف عین صاحب ۔۔۔ردیف کے بارے میں مزید دوستوں سے روشنی ڈالنے کی گزارش ہے۔۔۔
مایا جال بطور فعل استعمال نہیں کیا ہے۔۔۔'دور‘ مایا جال کرنے۔۔۔ ”دور“۔۔۔۔۔۔۔۔ کرنے“ کی رعایت سے ہے اآیا ہے یہاں۔
الف عین — اکتوبر 18، 2017 3:17 شام
مایا جال پر میں اب مطمئن ہوں، میں نے غور کہیں کیا تھا پہلے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85%D9%90-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%A7%D9%93%D9%BE-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%B0%D8%B1.98662/