کلامِ ضیاءؔ: غزل

ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاءؔ — اکتوبر 17، 2017 2:36 صبح
کلام : ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاءؔ (گوجرہ)
10-10-17 06:30 pm
غزل
اسرارِ کائنات کا ہم کو نہیں پتہ
تفسیرِ شش جہات کا ہم کو نہیں پتہ
یوں ہیں وقوع پزیر فسوں ہائے اہرمن
یزداں کی واردات کا ہم کو نہیں پتہ
بس اتنی تھوڑی دیر کو آئے تھے،چل دیئے
اس مختصر حیات کا ہم کو نہیں پتہ
بس کیا کہیں کہ ہستئ ناپائیدار تھی
اس نظمِ بے ثبات کا ہم کو نہیں پتہ
جب سے خبر ملی ہے کچھ اپنے عیوب کی
اوج و کمالِ ذات کا ہم کو نہیں پتہ
اب تو ہم اپنے حال میں ایسے ہوئے مگن
ان کی کسی بھی بات کا ہم کو نہیں پتہ
ہم سے ہمارے بارے میں پوچھیں ضیاءؔ میاں
ان کے معاملات کا ہم کو نہیں پتہ
※※※※
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 17، 2017 3:06 صبح
بہت داد قبول فرمائیے۔
اور ہاں ! اردو محفل میں خوش آمدید
ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاءؔ — اکتوبر 17، 2017 3:43 صبح
بہت داد قبول فرمائیے۔
اور ہاں ! اردو محفل میں خوش آمدید
جزاکم اللہ
میں تمہارا مغنی تمہارے لئے
جب بھی آیا نئے گیت لاتا رہوں گا۔
ان شاءاللہ
ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاءؔ — اکتوبر 17، 2017 4:36 صبح
مدیر محترم
السلام علیکم
نئی نظم ارسال کرنا چاہتا تھا۔ کیا پرانی لڑی ہی میں کروں اور کس طرح کروں ؟
نئی لڑی ارسال نہیں کر پارہا بار بار یہی لکھا آتاہے کہ at least 2 responses
محمد عدنان اکبری نقیبی — اکتوبر 17، 2017 5:07 صبح
واہ ! ضیاء صاحب بہت اعلی۔
جس طرح آپ نے یہ لڑی ارسال کی ہے بلکہ اس ہی طریقے سے اپنی نئی لڑی ارسال کر سکتے ہیں۔:)
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 17، 2017 5:56 صبح
مدیر محترم
السلام علیکم
نئی نظم ارسال کرنا چاہتا تھا۔ کیا پرانی لڑی ہی میں کروں اور کس طرح کروں ؟
نئی لڑی ارسال نہیں کر پارہا بار بار یہی لکھا آتاہے کہ at least 2 responses
و علیکم السلام
آپ تعارف کے زمرہ میں جا کر تعارفی لڑی بھی بنائیں۔
نئے ممبر ہونے کے ناطے پوسٹنگ میں کچھ وقفہ ہو گا۔ امید ہے کہ جلد ہی یہ پریشانی دور ہو جائے گی۔
محفل پر خوش آمدید۔ :)
لئیق احمد — اکتوبر 17، 2017 6:11 صبح
بہت اعلی، ایسی شاعری کم کم ہی پڑھنے کو ملتی ہے۔
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 17، 2017 6:16 صبح
بہت عمدہ
اسرارِ کائنات کا ہم کو نہیں پتہ
تفسیرِ شش جہات کا ہم کو نہیں پتہ

بس اتنی تھوڑی دیر کو آئے تھے،چل دیئے
اس مختصر حیات کا ہم کو نہیں پتہ

بس کیا کہیں کہ ہستئ ناپائیدار تھی
اس نظمِ بے ثبات کا ہم کو نہیں پتہ

جب سے خبر ملی ہے کچھ اپنے عیوب کی
اوج و کمالِ ذات کا ہم کو نہیں پتہ
محمد وارث — اکتوبر 17، 2017 7:50 صبح
خوب غزل ہے ڈاکٹر صاحب، داد قبول کیجیے۔
یوں ہیں وقوع پزیر فسوں ہائے اہرمن
یزداں کی واردات کا ہم کو نہیں پتہ​
اس خوبصورت شعر میں اگر "وقوع" کی عین نہ ہی گراتے تو اچھا ہوتا۔ دریدہ دہنی کے لیے معذرت!
سید عمران — اکتوبر 17، 2017 7:57 صبح
محفل میں خوش آمدید۔۔۔
بہت دھماکے دار اینٹری کی ہے۔۔۔
ویسے آپ ڈاکٹر کون سے والے ہیں؟؟؟
ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاءؔ — اکتوبر 17، 2017 8:52 صبح
محفل میں خوش آمدید۔۔۔
بہت دھماکے دار اینٹری کی ہے۔۔۔
ویسے آپ ڈاکٹر کون سے والے ہیں؟؟؟
میں MBBS ڈاکٹر ہوں جلد تعارف ارسال کئے دیتا ہوں۔
ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاءؔ — اکتوبر 17، 2017 9:00 صبح
میں MBBS ڈاکٹر ہوں جلد تعارف ارسال کئے دیتا ہوں۔
جذاکم اللہ
تمام احباب کی جانب سے پزیرائی پر سب کا ممنون ہوں۔ شکریہ قبول فرمائیے۔
youtube پر چینل kalam e Zia لکھ کر سرچ فرمائیے تو میری دو منظومات گلِ لالہ اور چل چلئیے پاکستان کڑے آپ کے حسنِ سماعت و نظر کی نذر ہیں۔ ان دونوں کو ١٩٩٧ میں میری مادرِ علمی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کی لٹریری سوسائٹی سے گولڈ میڈلز ملے تھے۔ مگر یہ ریکارڈننگ گوجرہ میں ایک برس قبل کی ہیں۔
سید عاطف علی — اکتوبر 17، 2017 10:01 صبح
خوب غزل ہے ڈاکٹر صاحب، داد قبول کیجیے۔
اس خوبصورت شعر میں اگر "وقوع" کی عین نہ ہی گراتے تو اچھا ہوتا۔ دریدہ دہنی کے لیے معذرت!
مجھے لگا کہ یہاں ع پر نہیں بلکہ و پر وار گیا ہے ۔ جو کہ واقعی وقوع کے ساتھ ایک لفظی زیادتی کی طرح محسوس ہوا ۔
ع جیسے با عزت حرف کو گرانا تو از حد لفظی بے ادبی ہو گی ۔
الف عین — اکتوبر 17، 2017 4:56 شام
مجھے لگا کہ یہاں ع پر نہیں بلکہ و پر وار گیا ہے ۔ جو کہ واقعی وقوع کے ساتھ ایک لفظی زیادتی کی طرح محسوس ہوا ۔
ع جیسے با عزت حرف کو گرانا تو از حد لفظی بے ادبی ہو گی ۔
رین کے ساتھ ہی یہ زیادتی روا رکھی گئی ہے۔ جو اتنی اچھی غزل کے لیے بد نما داغ ہے۔
خوش آمدید ضیاء
ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاءؔ — اکتوبر 21، 2017 1:30 صبح
مجھے لگا کہ یہاں ع پر نہیں بلکہ و پر وار گیا ہے ۔ جو کہ واقعی وقوع کے ساتھ ایک لفظی زیادتی کی طرح محسوس ہوا ۔
ع جیسے با عزت حرف کو گرانا تو از حد لفظی بے ادبی ہو گی ۔
مجھ کو اس کا رنج نہیں ہے لوگ مجھے فن کار نہ مانیں
فکر و فن کے تاجر میرے شعروں کو اشعار نہ مانیں
میرا فن میری امیدیں آج سے تم کو ارپن ہیں
آج سے میرے گیت تمہارے دکھ اور سکھ کا درپن ہیں
تم سے قوت لے کر اب میں تم کو راہ دکھاؤں گا
تم پرچم لہرانا ساتھی میں بربط پر گاؤں گا
آج سے میرے فن کا مقصد زنجیریں پگھلانا ہے
آج سے میں شبنم کے بدلے انگارے برساؤں گا
ساحر لدھیانوی
محمد وارث — اکتوبر 24، 2017 6:34 صبح
مجھ کو اس کا رنج نہیں ہے لوگ مجھے فن کار نہ مانیں
فکر و فن کے تاجر میرے شعروں کو اشعار نہ مانیں
میرا فن میری امیدیں آج سے تم کو ارپن ہیں
آج سے میرے گیت تمہارے دکھ اور سکھ کا درپن ہیں
تم سے قوت لے کر اب میں تم کو راہ دکھاؤں گا
تم پرچم لہرانا ساتھی میں بربط پر گاؤں گا
آج سے میرے فن کا مقصد زنجیریں پگھلانا ہے
آج سے میں شبنم کے بدلے انگارے برساؤں گا
ساحر لدھیانوی
ڈاکٹر صاحب اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اور اسے صحیح کرنے کی بجائے آپ نے ساحر لدھیانوی کی ایک ایسی شاندار نظم "کوٹ" کر دی جس کا یہاں دُور دُور تک کوئی محل ہی نہیں۔
یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص جس کی ظاہری صحت شاندار ہو، وہ ہر طرح سے فٹ نظر آ رہا ہو (جیسے آپ کی غزل) لیکن بحیثیت ڈاکٹر آپ یہ جان جائیں کہ یہ بندہ اپنی صحت کے ساتھ کچھ گڑ بڑ کر رہا ہے، عوام الناس چاہے اس گڑ بڑ کو نہ جان سکیں لیکن آپ بخوبی اس کو جان جائیں (جیسے آپ کے ایک شعر میں سقم)، آپ اُس بندے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس سے آگاہ کر دیں (جیسا آپ کو یہاں آگاہ کیا گیا) اور جواب میں وہ بندہ کہہ دے کہ "دوائیوں اور نسخوں کے تاجروں کو پورا حق ہے کہ وہ میری صحت کو صحت ہی نہ مانیں بلکہ سرے سے مجھے زندہ ہی نہ مانیں۔" وغیرہ وغیرہ۔ (یہ ایسا ہی استدلال ہوگا جیسا آپ نے ساحر کی نظم لا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے)۔
دریدہ دہنی کے لیے معذرت!
سید عاطف علی — اکتوبر 24، 2017 7:13 صبح
البتہ ساحر کی نظم کے لیے بہر حال شکریہ ۔ :)
گانوں اور گیتوں کے شاعر ہونے کے باوجود خوب انصاف کیا ساحر نے الفاظ سے ۔
ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاءؔ — اکتوبر 24، 2017 8:21 صبح
ڈاکٹر صاحب اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اور اسے صحیح کرنے کی بجائے آپ نے ساحر لدھیانوی کی ایک ایسی شاندار نظم "کوٹ" کر دی جس کا یہاں دُور دُور تک کوئی محل ہی نہیں۔
یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص جس کی ظاہری صحت شاندار ہو، وہ ہر طرح سے فٹ نظر آ رہا ہو (جیسے آپ کی غزل) لیکن بحیثیت ڈاکٹر آپ یہ جان جائیں کہ یہ بندہ اپنی صحت کے ساتھ کچھ گڑ بڑ کر رہا ہے، عوام الناس چاہے اس گڑ بڑ کو نہ جان سکیں لیکن آپ بخوبی اس کو جان جائیں (جیسے آپ کے ایک شعر میں سقم)، آپ اُس بندے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس سے آگاہ کر دیں (جیسا آپ کو یہاں آگاہ کیا گیا) اور جواب میں وہ بندہ کہہ دے کہ "دوائیوں اور نسخوں کے تاجروں کو پورا حق ہے کہ وہ میری صحت کو صحت ہی نہ مانیں بلکہ سرے سے مجھے زندہ ہی نہ مانیں۔" وغیرہ وغیرہ۔ (یہ ایسا ہی استدلال ہوگا جیسا آپ نے ساحر کی نظم لا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے)۔
دریدہ دہنی کے لیے معذرت!
مجھے تو خوشی ہوئی تھی کہ خوگرانِ حمد مریدوں کی بجائے ناصحینِ مشفق اس فورم میں موجود ہیں۔ ساحر کی نظم از راہ تفننِ طبع اور احباب کے حظِ نفس کے لئے ارسال کی تھی بصورتِ دیگر میں ادب میں طفل مکتب ہوں اور ناقدین سے اصلاح کا متمنی ہوں۔ جذاکم اللہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85%D9%90-%D8%B6%DB%8C%D8%A7%D8%A1%D8%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84.98719/