کلامِ ضیاءؔ: غزل ٢

ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاءؔ — اکتوبر 24، 2017 9:54 صبح
غزل ٢
کلام : ڈاکٹر ضیاءاللہ ضیاءؔ (گوجرہ)
[ای میل آئی ڈی حذف کی گئی]
24-10-17 01:30pm
.................................................................
قیدِ تنہائی کٹی تو محفلوں نے آ لیا
ہم کو بھی سودائیوں نے، منچلوں نے آ لیا
زندگی اپنی طلسمِ رنگ و بُو میں کٹ گئی
موت سے گزرے تو اگلے مرحلوں نے آ لیا
کیا کہیں کیسے بھلا ہم نے گزارے روز و شب
قہقہوں میں آنسو ؤں کے سلسلوں نے آ لیا
ہم کو بس اذنِ سفر تھا دوستو چلتے رہے
منزلِ ہستی سے آگے منزلوں نے آ لیا
ہم تھکے ہارے رہے پھر بھی ضیاءؔ چلتے رہے
زندگی بھر منزلوں کے مسئلوں نے آ لیا
الف عین — اکتوبر 25، 2017 8:04 صبح
اچھی غزل ہے۔ لیکن قوافی غلط ہیں۔ اسے دیکھ لیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85%D9%90-%D8%B6%DB%8C%D8%A7%D8%A1%D8%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%A2.98797/