کمرے میں کوئی آنکھیں میچے بیٹھا تھا

سید انور جاوید ہاشمی — مئی 5، 2009 6:49 صبح
کمرے میں کوئی آنکھیں میچے بیٹھا تھا
چاند سرہانے کھڑکی کھولے بیٹھا تھا
دفتر جاتے وقت بسیں کب ملتی ہیں
میں مشکل سے جیسے تیسے بیٹھا تھا
بھوک سجی تھی دسترخوان کے بیچ کہیں
پانی کا جگ پیاس چھپائے بیٹھا تھا
انٹر نیٹ پہ اس سے باتیں ہوتی تھیں
یوں جیسے وہ سامنے آکے بیٹھا تھا
آوازوں پر کان لگائے تھی محفل ”اردو محفل!‘‘
میں ہی لبوں پر مہر لگائے بیٹھا تھا۔۔۔سیدانورجاویدہاشمی 5 مئی 2009
محمداحمد — مئی 28، 2009 12:29 شام
بھوک سجی تھی دسترخوان کے بیچ کہیں
پانی کا جگ پیاس چھپائے بیٹھا تھا
یہ منفرد انداز ہاشمی صاحب کا ہی ہو سکتا ہے ۔ بہت خوب!
مغزل — مئی 28، 2009 1:32 شام
سبحان اللہ سبحان اللہ ، کیا کہنے بابا جی ، واہ مزا آگیا، سدا خوش رہیں‌جناب
سید انور جاوید ہاشمی — مئی 29، 2009 4:47 صبح
شکریہ غزل پسند کرنے کا۔۔سیدانورجاویدہاشمی
ہم آپ سب کے ممنون ہیں کہ ہماری ایک غزل کو سند پسندیدگی عطا کی
تا قیامت رہے جہاں آباد
میرا محبوب ہے یہاں آباد
دائیں بائیں سبھی تو رہتے ہیں
ہم بھی ہوجائیں درمیاں آباد
اک نظارے میں آنکھ الجھی ہوئی
اک اشارے میں بجلیاں آباد
اک ستارا ہے کہکشائوں میں
اک ستارے میں کہکشاں آباد
رفتگاں نے جنہیں بسایا ہے
ایسی ہوں گی نہ بستیاں آباد
ہائے یہ اپنے وائے بے گانے
ہاشمی ہوگئے کہاں آباد!
یہ غزل بھی ہمیں قوی امید ہے کہ آپ صاحبان کی توجہ حاصل کرے گی۔۔۔۔۔;)
عمران شناور — مئی 29، 2009 5:18 صبح
بالکل جناب پسند آئی۔ بہت اچھی غزل ہے اور پہلی بھی۔ شکریہ
ملائکہ — مئی 29، 2009 5:22 صبح
ک نظارے میں آنکھ الجھی ہوئی
اک اشارے میں بجلیاں آباد
اک ستارا ہے کہکشائوں میں
اک ستارے میں کہکشاں آباد

واہ زبردست:applause:
محمداحمد — مئی 29، 2009 6:51 صبح
تا قیامت رہے جہاں آباد
میرا محبوب ہے یہاں آباد
اک ستارا ہے کہکشائوں میں
اک ستارے میں کہکشاں آباد
رفتگاں نے جنہیں بسایا ہے
ایسی ہوں گی نہ بستیاں آباد
ہائے یہ اپنے وائے بے گانے
ہاشمی ہوگئے کہاں آباد!


بہت ہی عمدہ ہاشمی صاحب!
کیا کہنے ہیں جناب آپ کے۔ آپ کے اشعار کی بے ساختگی دل موہ لیتی ہے۔
الف عین — مئی 29، 2009 8:12 صبح
اچھی غزل ہے یہ بھی. مبارک ہو.
آصف شفیع — مئی 29، 2009 4:18 شام
جی کیا جدید اشعار ہیں! بہت خوب!!
محمد وارث — مئی 30، 2009 4:58 صبح
دونوں غزلیں بہت خوبصورت ہیں ہاشمی صاحب، لاجواب!
مغزل — مئی 30، 2009 7:32 صبح
ہاشمی بابا، دوسری غزل پر بھی ہماری جانب سے مبارکباد قبول کیجے ۔ سبحان اللہ کیا خوب ہے ۔ واہ
سرمد خان — مئی 30، 2009 8:13 صبح
ہاشمی بہت خوبصورت اور منفرد انداز آپکا ماشا اللہ
بہت خوبصورت، بہت شاندار

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%85%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%86%DB%92-%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7.21554/