کوئی اگر مر جائے تو؟

F@rzana — مئی 24، 2006 3:17 شام
کڑی دھوپ میں چلتے چلتے
سایہ اگر مل جائے۔ ۔ ۔ تو!
اک قطرے کو ترسے ترسے
پیاس اگر بجھ جائے۔ ۔ ۔ تو!
برسوں سے، خواہش کے جزیرے
ویراں ویراں اجڑے ہوں
اور سپنوں کے ڈھیر سجا کر
کوئی اگر رکھ جائے ۔ ۔ ۔ تو!
بادل، شکل بنائیں جب
نیل آکاش پہ رنگوں کی
ان رنگوں میں اس چہرہ
آ کے اگر رک جائے۔ ۔ ۔ تو!
خاموشی ہی خاموشی ہو
دل کی گہری پاتالوں میں
کچھ نہیں کہتے کہتے گر
کوئی سب کہہ جائے۔ ۔ ۔ تو!
زندہ رہنا سیکھ لیا ہو
سارے دکھوں سے ہار کے جب
بیتے سپنے پاکے خوشی سے
کوئی اگر۔ ۔ ۔ مرجائے
تو۔ ۔ ۔ ؟
۔
نیناں
۔​
قیصرانی — مئی 24، 2006 7:35 شام
بلا تبصرہ، مگر جب کچھ در واء ہوئے تو تبصرہ کر دوں گا۔ ویسے گنگو تیلی والی مثال یاد آ رہی ہے :cry:
فرذوق احمد — مئی 25، 2006 7:35 صبح
آپی جی بہت اچھی نظم ہے
F@rzana — مئی 25، 2006 12:23 شام
شکریہ فرذوق، پر آپ اتنی سوچ میں کیوں کھوئے رہتے ہو چندا؟؟؟
“گنگو تیلی“ سوچ لیں ایک اور نام مل رہا ہے، پچھتائیے گا مت۔ ۔ ۔ :lol:
قیصرانی — مئی 25، 2006 12:24 شام
دھاگہ کھولیں‌اس نام کا، استعمال شروع
F@rzana — مئی 25، 2006 12:28 شام
ابھی میرا دماغ سلامت ہے۔ ۔ ۔ :wink:
تیشہ — مئی 28، 2006 7:33 شام
:lol:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%D9%85%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%88%D8%9F.2305/