کوئی بھی آگ ہو شانہ بشانہ جلتا ہے

ظہیراحمدظہیر — جنوری 1، 2016 6:50 صبح
کوئی بھی آگ ہو ، شانہ بشانہ جلتا ہے
وہ میرےساتھ ہے جب سے ، زمانہ جلتا ہے
کوئی تو رہتا ہے دل کے کھنڈر مکانوں میں
چراغ شام کو اکثر پرانا جلتا ہے
دراز دستیء بادِ ستم کا شکوہ کیا
چراغ یادوں میں اب جاودانہ جلتا ہے
یہ انتظار شبستان ِ دل میں ہے کس کا
نہ بجھ کے دیتا ہے کوئی دیا، نہ جلتا ہے
ہمارے شہر میں قیمت ہے روشنی پہ ابھی
دیا جلائیں تو پہلے ٹھکانہ جلتا ہے
وہ تیر ِعشق جو پیوستِ جاں ہوا تھا کبھی
نکل گیا ،مگر اب تک نشانہ جلتا ہے
ذرا خیال سے چُھونا ظہیر شاخِ نہال
گلابِ سرخ نہیں ، آشیانہ جلتا ہے
ظہیر احمد ظہیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فروری ۲۰۰۸
ٹیگ: محمد تابش صدیقی کاشف اختر سید عاطف علی فاتح
اکمل زیدی — جنوری 1، 2016 6:55 صبح
کوئی تو رہتا ہے دل کے کھنڈر مکانوں میں
چراغ شام کو اکثر پرانا جلتا ہے
واہ ...
محمد تابش صدیقی — جنوری 1، 2016 6:57 صبح
کیا کہنے ظہیر بھائی
ہمارے شہر میں قیمت ہے روشنی پہ ابھی
دیا جلائیں تو پہلے ٹھکانہ جلتا ہے
فاتح — جنوری 1، 2016 1:10 شام
واہ واہ کیا کہنے حضور۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 4، 2016 2:02 صبح

بہت شکریہ اکمل زیدی صاحب! ذرہ نوازی ہے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A2%DA%AF-%DB%81%D9%88-%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81-%D8%A8%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%81-%D8%AC%D9%84%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.86828/