کوئی تھا چاند ، یا پھر چاندنی بردار دیکھا ہے

ذوالفقار نقوی — دسمبر 10، 2013 2:43 شام
کوئی تھا چاند ، یا پھر چاندنی بردار دیکھا ہے
نظر کو سامنے جس کے بہت لاچار دیکھا ہے
کبھی جو سیر کی ، اپنے ہی اندر ڈوب کر میں نے
تھکن سے چور اک سایہ پسِ دیوار دیکھا ہے
مسلسل جھوجھتا رہتا ہوں میں امواجِ دریا سے
ہمیشہ خود کو اِس جانب اُسے اُس پار دیکھا ہے
نمو جس درد نے پائی، پلا جو میرے آنگن میں
اُسی کا میرے سر نے آہنی ہر وار دیکھا ہے
کسی دن قتل ہو جائے گا یہ معصوم سا بچہ
ہمیشہ اُس گلی میں سایۂ تلوار دیکھا ہے
دِگر گوں ہے مرے اندر کی حالت اے مرے ہمدم
در و دیوار کو گرتے ہزاروں بار دیکھا ہے
ذوالفقار نقوی
سلمان حمید — دسمبر 10، 2013 2:46 شام
کبھی جو سیر کی ، اپنے ہی اندر ڈوب کر میں نے
تھکن سے چور اک سایہ پسِ دیوار دیکھا ہے
بہت عمدہ ذوالفقار نقوی صاحب۔ بے شمار داد قبول کیجئے :)
ذوالفقار نقوی — دسمبر 10، 2013 4:28 شام
کبھی جو سیر کی ، اپنے ہی اندر ڈوب کر میں نے
تھکن سے چور اک سایہ پسِ دیوار دیکھا ہے
بہت عمدہ ذوالفقار نقوی صاحب۔ بے شمار داد قبول کیجئے :)

بہت شکریہ سلمان حمید صاحب.....نوازش
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 10، 2013 4:52 شام
بہت خوبصورت غزل ہے۔ بہت ساری داد قبول فرمائیے۔
ذوالفقار نقوی — دسمبر 11، 2013 7:00 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے۔ بہت ساری داد قبول فرمائیے۔

بہت نوازش محترم محمد خلیل الرحمن صاحب..
شمشاد — دسمبر 11، 2013 11:42 صبح
ماشاء اللہ
اللہ کرئے زور قلم اور زیادہ
بہت داد قبول فرمائیں۔
ذوالفقار نقوی — دسمبر 13، 2013 7:22 صبح
بہت شکریہ محترم شمشاد صاحب
جاسمن — جولائی 7، 2020 8:07 شام
واہ بھئی واہ!
بہت خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF-%D8%8C-%DB%8C%D8%A7-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%86%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%DB%81%DB%92.70017/