کوئی خیال و خواب نہیں ہے قرینِ دل

محمود احمد غزنوی — فروری 16، 2010 4:42 شام
غزل​
کوئی خیال و خواب نہیں ہے قرینِ دل۔ ۔ ۔
بنجر سی ہوگئی ہے مری سرزمینِ دل۔ ۔
کوئی مجاہدہ ہے نہ کوئی مشاہدہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اک منتظر سکوُت ہوا ہے مکینِ دل۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مہمان تھا، چلا گیا، جانا ہی تھا اسے۔ ۔ ۔
اک یاد رہ گئی سو ہوئی ہمنشینِ دل۔ ۔ ۔
وہ اشک جو نکلے تھے زمیں پر نہیں گرے
موتی تھے قیمتی سو ہوئے تہ نشینِ دل
محمود سربسجدہ ہوئے گو حرم میں تم
کب وقت آئے گا کہ جھکے گی جبینِ دل​
مغزل — فروری 17، 2010 6:47 صبح
رسید حاضر است، محمود صاحب، جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ ’’ رندا ‘‘ لگانے کے عمل میں ’’ شعریت ‘‘ بھی فرار ہوگئی۔ بہر حال اساتذہ کی رائے کا منتظر ہوں۔والسلام
عمران شناور — فروری 17، 2010 7:06 صبح
اچھے اشعار ہیں۔ شکریہ
الف عین — فروری 17، 2010 3:53 شام
اشعار تو اچھے ہیں، شعریت کی کمی تو نہیں ہے، البتہ زمین ایسی ہے جس میں استادی دکھانے کی ضرورت تھی جو محمود نے دکھا دی ہے۔
وہ اشک جو نکلے تھے زمیں پر نہیں گرے
یہ مصرع اس بحر میں نہیں ہے، محض نکلے کی جگہ ’گرے‘ کرنے سے وزن میں آ جاتا ہے۔
اور یہ مصرع
اک منتظر سکوُت ہوا ہے مکینِ دل
اگر منتظرِ سکوت یے تو بحر سے خارج ہے، اور محض منتظر سکوت ہے، تو میری ناقص عقل سے خارج!
محمود احمد غزنوی — فروری 17، 2010 3:59 شام
بہت شکریہ سر۔ ۔ اگر یوں کردیں تو کیسا ہے:
وہ اشک جو بہے تھے، زمیں پر نہیں گرے
موتی تھے قیمتی سو ہوئے تہہ نشینِ دل​
باقی جہاں تک منتظر سکوت کا تعلق ہے، میں نے انہی معنوں میں استعمال کیا ہے گویا سکُوت پر بھی انتظار کی کیفیت چھائی ہوئی ہے۔ ۔ ۔ سکوت اگر باتیں کرسکتا ہے تو انتظار بھی تو کرسکتا ہے:)
کہہ رہا ہے شورِ دریا سے سمندر کا سکُوت
مغزل — فروری 18، 2010 11:30 صبح
شکریہ بابا جانی ۔، محمود غزنوی صاحب آپ کا بھی شکریہ۔ سلامت رہیں
الف عین — فروری 18، 2010 1:43 شام
محمود، اب سے تم کو غزنوی لکھوں گا، ورنہ مغل کا بھی پورا نام لکھنا پڑے گا، پرانے رکن ہونے کا فائدہ دے دوں ان کو!!
تو غزنوی، خوشی ہوئی تمہاری ترمیم اور وضاحت سے، ان معانی میں واقعی شعر بہتر ہے ۔
محمداحمد — فروری 26، 2010 7:17 صبح
کوئی خیال و خواب نہیں ہے قرینِ دل۔ ۔ ۔
بنجر سی ہوگئی ہے مری سرزمینِ دل۔ ۔
کیا کہنے!
مغزل — فروری 27، 2010 11:12 صبح
ارے احمد میاں بھی آئے تھے ۔ جناب آپ کا آنا اگر ہمارے غیاب پر ہی منطبق ہے تو ہم ہمیشہ کے لیے غائب ہوجاتے ہیں ۔
محمداحمد — مارچ 4، 2010 9:36 صبح
ارے احمد میاں بھی آئے تھے ۔ جناب آپ کا آنا اگر ہمارے غیاب پر ہی منطبق ہے تو ہم ہمیشہ کے لیے غائب ہوجاتے ہیں ۔

نہیں بھائی ! ہم تو یہ سوچ کر بے فکری سے غائب رہتے ہیں کہ "آپ" ہیں نہ! :grin:
مغزل — مارچ 24، 2010 6:54 صبح
خیر ۔ غیر سے رسم راہ ہے تم کو، ایک ہم کو نہیں میسر تم
اشرف علی — جون 2، 2022 12:27 شام
ماشاء اللّٰہ
بہت خوب !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84-%D9%88-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92-%D9%82%D8%B1%DB%8C%D9%86%D9%90-%D8%AF%D9%84.28592/