کوئی فخرِ زہد و تقویٰ ، نہ غرورِ پارسائی

ظہیراحمدظہیر — اپریل 7، 2020 8:00 شام
احبابِ محفل کی خدمت میں ایک غزل پیش ہے۔ آپ سب کے حسنِ ذوق کی نذر! گر قبول افتد زہے عز و شرف!

٭٭٭
کوئی فخرِ زہد و تقویٰ ، نہ غرورِ پارسائی
مجھے سب خبر ہے کیا ہے مرے نفس کی کمائی
مجھے جب کبھی اندھیرے ملے راہِ جستجو میں
نئی مشعل ِ تمنا ترے نام کی جلائی
اسے کیوں نہ سر پہ رکھوں ، یہ جزائے بندگی ہے
ترے نام سے مزیّن مرا کاسۂ گدائی
وہ جو ضبط سے نہ نکلا ،کبھی نطق تک نہ پہنچا
اُسی حرفِ نارسا کی ہوئی عرش تک رسائی
ہے مرا وجود ثابت ، ہے مرا شمار ممکن
مرے صفر سے ہے پہلے تری ذات کی اکائی
نہ جھکا سکے جو سر کو وہ عمامہء فضیلت
سرِ بزم ِ علم و دانش ہے کلاہِ خود نمائی
مرے چارہ گر سے کہہ دو یہ مرض ہے آگہی کا
نہ کرے گی کام اِس میں کوئی نیند کی دوائی
مری چشمِ خوش گماں تُو! مری دوست ہے کہ دشمن
تو نے خواب ایسے دیکھے مجھے نیند ہی نہ آئی
-ق-
ہیں بجھے بجھے سے دونوں ،سبھی رونقوں سے خالی
مری بزمِ ترکِ الفت ، ترا جشنِ بے وفائی
کہیں لے گئیں ہوائیں وہ محبتوں کے فانوس
شب و روز بجھ رہے ہیں مہ و سالِ آشنائی
٭٭٭
ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔ 2019
مریم افتخار — اپریل 7، 2020 8:04 شام
اسے کیوں نہ سر پہ رکھوں ، یہ جزائے بندگی ہے
ترے نام سے مزیّن مرا کاسۂ گدائی

ہے مرا وجود ثابت ، ہے مرا شمار ممکن
مرے صفر سے ہے پہلے تری ذات کی اکائی
نہ جھکا سکے جو سر کو وہ عمامہء فضیلت
سرِ بزم ِ علم و دانش ہے کلاہِ خود نمائی

ہیں بجھے بجھے سے دونوں ،سبھی رونقوں سے خالی
مری بزمِ ترکِ الفت ، ترا جشنِ بے وفائی
ایسے اشعار لکھتے ہیں کہ دل سے شاعر کے لیے دعائیں نکلیں!! :)
فاخر رضا — اپریل 7، 2020 8:16 شام
بہت اعلیٰ
کس کیفیت میں لکھتے ہیں واہ واہ
سچ مچ وجد طاری ہوجائے
فاخر رضا — اپریل 7، 2020 8:17 شام
مرے چارہ گر سے کہہ دو یہ مرض ہے آگہی کا
نہ کرے گی کام اِس میں کوئی نیند کی دوائی
مرَض ہے یا مرض
شکیل احمد خان23 — اپریل 7، 2020 8:21 شام
ماشاء اللہ ،کیا کہنے!
وہ جو ضبط سے نہ نکلا،کبھی نطق تک نہ پہنچا۔۔۔۔۔۔۔اُسی حرفِ نارسا کی ہوئی عرش تک رسائی
بھئی واہ واہ واہ،سبحان اللہ !
شکیل احمد خان23 — اپریل 7، 2020 8:24 شام
مَ+رَ+ض=مَرَض
نَ+فَ+س
اور
نَ+ف’+س
کا مسئلہ بھی حل ہوگیا، شکریہ ظہیر صاحب شکریہ۔
فرخ منظور — اپریل 7، 2020 11:00 شام
بہت اعلیٰ ظہیر بھائی۔ خوش رہیے۔
عبید انصاری — اپریل 8، 2020 1:53 صبح
واہ جی۔ ہر شعر لاجواب!
ہے مرا وجود ثابت ، ہے مرا شمار ممکن
مرے صفر سے ہے پہلے تری ذات کی اکائی
اس شعر سے پہلے تک میں صفر کو فاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھتا تھا۔ بہت شکریہ
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 8، 2020 1:59 صبح
خوبصورت خوبصورت۔
الف نظامی — اپریل 8، 2020 2:41 صبح
وہ جو ضبط سے نہ نکلا ،کبھی نطق تک نہ پہنچا
اُسی حرفِ نارسا کی ہوئی عرش تک رسائی
شکیل احمد خان23 — اپریل 8، 2020 3:30 صبح
واہ جی۔ ہر شعر لاجواب!
اس شعر سے پہلے تک میں صفر کو فاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھتا تھا۔ بہت شکریہ
اور جناب کچھ یہی حال اپنا بھی تھا:
صِ+فَ+ر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اب
تلفظ درست ہو گیا،شکریہ ظہیر صاحب شکریہ۔
الف عین — اپریل 8، 2020 5:47 صبح
مَ+رَ+ض=مَرَض
نَ+فَ+س
اور
نَ+ف’+س
کا مسئلہ بھی حل ہوگیا، شکریہ ظہیر صاحب شکریہ۔
عرض اور عرَض کا بھی ہوا کہ نہیں؟
محمد تابش صدیقی — اپریل 8، 2020 5:53 صبح
واہ۔ لاجواب
صبح صبح ہی خوبصورت غزل پڑھ کر طبیعت بشاش ہو گئی۔
کوئی فخرِ زہد و تقویٰ ، نہ غرورِ پارسائی
مجھے سب خبر ہے کیا ہے مرے نفس کی کمائی
مجھے جب کبھی اندھیرے ملے راہِ جستجو میں
نئی مشعل ِ تمنا ترے نام کی جلائی
اسے کیوں نہ سر پہ رکھوں ، یہ جزائے بندگی ہے
ترے نام سے مزیّن مرا کاسۂ گدائی
وہ جو ضبط سے نہ نکلا ،کبھی نطق تک نہ پہنچا
اُسی حرفِ نارسا کی ہوئی عرش تک رسائی
ہے مرا وجود ثابت ، ہے مرا شمار ممکن
مرے صفر سے ہے پہلے تری ذات کی اکائی
نہ جھکا سکے جو سر کو وہ عمامہء فضیلت
سرِ بزم ِ علم و دانش ہے کلاہِ خود نمائی
مرے چارہ گر سے کہہ دو یہ مرض ہے آگہی کا
نہ کرے گی کام اِس میں کوئی نیند کی دوائی
مری چشمِ خوش گماں تُو! مری دوست ہے کہ دشمن
تو نے خواب ایسے دیکھے مجھے نیند ہی نہ آئی
-ق-
ہیں بجھے بجھے سے دونوں ،سبھی رونقوں سے خالی
مری بزمِ ترکِ الفت ، ترا جشنِ بے وفائی
کہیں لے گئیں ہوائیں وہ محبتوں کے فانوس
شب و روز بجھ رہے ہیں مہ و سالِ آشنائی​
محمد وارث — اپریل 8، 2020 6:31 صبح
انتہائی عمدہ غزل ہے، بہت داد قبول کیجیے ڈاکٹر صاحب محترم۔
عاطف ملک — اپریل 8، 2020 6:33 صبح
کمال است کمال است
بہت داد ظہیر صاحب
نور وجدان — اپریل 8، 2020 6:46 صبح
احبابِ محفل کی خدمت میں ایک غزل پیش ہے۔ آپ سب کے حسنِ ذوق کی نذر! گر قبول افتد زہے عز و شرف!

٭٭٭
کوئی فخرِ زہد و تقویٰ ، نہ غرورِ پارسائی
مجھے سب خبر ہے کیا ہے مرے نفس کی کمائی
مجھے جب کبھی اندھیرے ملے راہِ جستجو میں
نئی مشعل ِ تمنا ترے نام کی جلائی
اسے کیوں نہ سر پہ رکھوں ، یہ جزائے بندگی ہے
ترے نام سے مزیّن مرا کاسۂ گدائی
وہ جو ضبط سے نہ نکلا ،کبھی نطق تک نہ پہنچا
اُسی حرفِ نارسا کی ہوئی عرش تک رسائی
ہے مرا وجود ثابت ، ہے مرا شمار ممکن
مرے صفر سے ہے پہلے تری ذات کی اکائی
نہ جھکا سکے جو سر کو وہ عمامہء فضیلت
سرِ بزم ِ علم و دانش ہے کلاہِ خود نمائی
مرے چارہ گر سے کہہ دو یہ مرض ہے آگہی کا
نہ کرے گی کام اِس میں کوئی نیند کی دوائی
مری چشمِ خوش گماں تُو! مری دوست ہے کہ دشمن
تو نے خواب ایسے دیکھے مجھے نیند ہی نہ آئی
-ق-
ہیں بجھے بجھے سے دونوں ،سبھی رونقوں سے خالی
مری بزمِ ترکِ الفت ، ترا جشنِ بے وفائی
کہیں لے گئیں ہوائیں وہ محبتوں کے فانوس
شب و روز بجھ رہے ہیں مہ و سالِ آشنائی
٭٭٭
ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔ 2019
ماشاءاللہ .. سچ ہے کہ واہ نکلی جب یہ اشعار پڑھے.
لاريب اخلاص — اپریل 8، 2020 7:01 صبح
عمدہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 8، 2020 8:31 صبح
بہت خوب ظہیرؔ بھائی ۔۔۔ ماشاءاللہ حسبِ معمول بہترین کلام ہے۔
مجھے دوسرے شعر میں اپنی کم علمی کی بنا پر کچھ تردد ہے۔
کسی کے نام کا دیا جلانا تو بطور محاورہ اکثر پڑھنے سننے میں آتا ہے، کسی کے نام کی مشعل جلانا، یہ کچھ نامانوس لگ رہا ہے۔ کیا یہ بھی مروج محاورہ ہے؟
دعاگو،
راحلؔ
ظہیراحمدظہیر — اپریل 8، 2020 8:13 شام
ایسے اشعار لکھتے ہیں کہ دل سے شاعر کے لیے دعائیں نکلیں!! :)
بہت بہت شکریہ، بہت نوازش!
مریم بیٹا ، دعائوں سے بڑھ کر اور کیا داد ہوسکتی ہے ۔ اللہ کریم آپ کو ہمیشہ خوش رکھیں ، شاد و آباد رکھیں ، ہر بلا اور مصیبت سے دور رکھیں ! آمین
ظہیراحمدظہیر — اپریل 8، 2020 8:16 شام
بہت اعلیٰ
کس کیفیت میں لکھتے ہیں واہ واہ
سچ مچ وجد طاری ہوجائے
آداب! نوازش! بہت ممنون ہوں فاخر بھائی ۔ جواب میں یہی کہوں گا کہ :
الفاظ دریچے ہیں جو کھلتے ہیں دلوں میں
معنی مرے سامع کے خیالات میں گم ہیں
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D9%81%D8%AE%D8%B1%D9%90-%D8%B2%DB%81%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D9%82%D9%88%DB%8C%D9%B0-%D8%8C-%D9%86%DB%81-%D8%BA%D8%B1%D9%88%D8%B1%D9%90-%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C.111165/