کور چشموں میں آئینے

رشید حسرت — اگست 20، 2021 1:09 شام
میں کور چشموں میں اب آئینے رکُھوں گا کیا
کوئی پڑھے گا نہِیں مُجھ تو لِکُھوں گا کیا؟
میں دِل سے تھوڑی یہ کہتا ہوں "تُم بِچھڑ جاؤ"
تُمہارے ہِجر کے صدمے میں سہہ سکُوں گا کیا؟
کوئی جو پُوچھے کہ شِعر و سُخن میں کیا پایا
تو سوچتا ہوں کہ اِس کا جواب دُوں گا کیا؟
میں اپنے بچّوں کو بازار لے تو آیا ہوں
ہے جیب خالی تو اِن کے کھلونے لُوں گا کیا؟
کِیا ہے مُجھ پہ بھروسہ تو دفن سمجھو اِنہیں
تُمہارے راز کِسی سے کبھی کہُوں گا کیا؟
بدل لیا ہے اگر تُم نے راستہ تو کیا
ذرا سی بات پہ اب رات بھر جگُوں گا کیا؟
رشِیدؔ وقت نے چہرے سے نوچ لی رونق
میں کِھکِھلا کے کِسی بات پر ہنسُوں گا کیا؟
رشید حسرتؔ
سید عاطف علی — اگست 20، 2021 1:13 شام
کوئی پڑھے گا نہِیں مُجھ تو لِکُھوں گا کیا؟
اس مصرعے میں شاید "کو" کی کمی رہ گئی ۔
رشید حسرتؔ صاحب
ایس ایس ساگر — اگست 20، 2021 1:43 شام
بہت خوب رشید حسرت بھائی۔
عمدہ غزل ہے۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔آمین
زوجہ اظہر — اگست 20، 2021 5:34 شام
بہت خوب واہ
گُلِ یاسمیں — اگست 20، 2021 5:40 شام
بہت عمدہ
سلامت رہئیے ہمیشہ۔
رشید حسرت — ستمبر 21، 2021 5:26 شام
بہت خوب رشید حسرت بھائی۔
عمدہ غزل ہے۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔آمین
نوازش
رشید حسرت — ستمبر 21، 2021 5:27 شام
عنایت۔ مہربانی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%88%D8%B1-%DA%86%D8%B4%D9%85%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%92.117244/