کون کس حال میں پھرتا ہے وہ سب جانتا ہے

عظیم — جون 4، 2024 6:10 شام
مطلع کا مصرع اولی ہو گیا تھا، پھر کوشش کر کے غزل مکمل کی ہے۔ امید کرتا ہوں کہ احباب کو پسند آئے گی

کون کس حال میں پھرتا ہے وہ سب جانتا ہے
آدمی اپنی ہی نیت کو بھی کب جانتا ہے
میں تو پہچان سکا ہوں نہ ابھی تک خود کو
کس لیے پھرتا ہوں آوارہ یہ رب جانتا ہے
جانتا ہے کہ کہاں ہے مری منزل بے شک
وہ جو پتھر کے چٹخنے کا سبب جانتا ہے
بولتا رہتا ہے رب جانے نہ کیا کیا آخر
ایک انجان جو بس بات کا ڈھب جانتا ہے
ہے اسی علم کی بخشش کہ مجھے علم ہوا
کوئی کچھ جانتا پہلے تھا نہ اب جانتا ہے
بیٹھا رہتا ہے خموش ایک ہی کونے میں کہیں
وہ جو کچھ جاننے والا تھا کہ جب جانتا ہے
جب کہ رہتا نہیں کچھ پاس گنوانے کو عظیم
آدمی اپنی تباہی کو بھی تب جانتا ہے
*****
الف عین — جون 6، 2024 10:29 شام
واہ، اچھی غزل ہے، اس کو تو سَمت میں شائع کیا جا سکتا ہے
عظیم — جون 7، 2024 10:18 صبح
واہ، اچھی غزل ہے، اس کو تو سَمت میں شائع کیا جا سکتا ہے
جزاک اللہ خیر بابا، جیسا آپ مناسب سمجھیں
محمد شکیل خورشید — جون 12، 2024 2:39 شام
ماشا اللہ، بہت خوب عظیم بھائی
سیما علی — جون 12، 2024 3:13 شام
میں تو پہچان سکا ہوں نہ ابھی تک خود کو
کس لیے پھرتا ہوں آوارہ یہ رب جانتا ہے
بہت عمدہ
اونچی عمارتوں کی یہ بستی عجیب ہے
ہر شکل اپنے جسم سے باہر دکھائی دے
عظیم — جون 13، 2024 9:56 صبح
ماشا اللہ، بہت خوب عظیم بھائی
بہت بہت شکریہ بھائی۔
بہت عمدہ
اونچی عمارتوں کی یہ بستی عجیب ہے
ہر شکل اپنے جسم سے باہر دکھائی دے
ڈھیر سارا شکریہ سیما علی آپا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%D9%88%D9%86-%DA%A9%D8%B3-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%BE%DA%BE%D8%B1%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D9%88%DB%81-%D8%B3%D8%A8-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.120733/