کچھ اور بھٹک لوں میں، حسرت میں نہ مر جاؤں!

راحیل فاروق — جون 3، 2016 7:46 شام
راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں
کچھ اور بھٹک لوں میں، حسرت میں نہ مر جاؤں
ہر راہ کا عالم اور، ہر گام پہ سو سو رنگ
سوچا کہ اِدھر جاؤں، چاہا کہ اُدھر جاؤں
کچھ اور کھٹک تھی تب، اب اور کسک سی ہے
مدت ہوئی نکلا تھا، اب جی میں ہے گھر جاؤں
ویرانئِ منزل کا افسانہ ہی کہہ ڈالوں
کوئی تو سبق سیکھے، کچھ کام تو کر جاؤں
میں گردِ سفر بہتر، میں خاک سہی راحیلؔ
وہ بھی تو اڑائے گا، خود کیوں نہ بکھر جاؤں؟
راحیلؔ فاروق
مشمولہ: زار
ہادیہ — جون 3، 2016 7:49 شام
آپ شاعری کرتے ہیں؟:eek:
راحیل فاروق — جون 3، 2016 8:01 شام
آپ شاعری کرتے ہیں؟:eek:
یہاں آپ ہی شاعر لگ رہے ہیں -پکا!:p(y)
ہم نے تو سنا تھا خواتین کی یادداشت بہت قوی ہوتی ہے۔
ہادیہ — جون 3، 2016 8:02 شام
ہم نے تو سنا تھا خواتین کی یادداشت بہت قوی ہوتی ہے۔
ہاہاہاہا
سوری مجھے بھول گیا تھا
ویسے آپ نے سنا تو ٹھیک ہی تھا مگر آج کل گرمی زیادہ ہے تو بادام کھانے بھی چھوڑے ہوئے ہیں بھول گئی تھی
حسن ترمذی — جون 3، 2016 9:11 شام
کچھ اور کھٹک تھی تب، اب اور کسک سی ہے
مدت ہوئی نکلا تھا، اب جی میں ہے گھر جاؤں
واہ واہ
کیا ہی کہنے راحیل بھائی
سید عاطف علی — جون 3، 2016 9:14 شام
واہ ۔بہت خوب
محمد اکرم محمدی — جون 4، 2016 5:20 صبح
السلام علیکم ۔ ما شاء اللہ ۔ بہت خوب مگر آخری شعر۔
میں گردِ سفر بہتر، میں خاک سہی راحیلؔ​
وہ بھی تو اڑائے گا، خود کیوں نہ بکھر جاؤں؟
اس ہندؤں کی تہذیب کی بو ہے ۔ کہ مرنے کے بعد جلا کر راکھ بنا کر اُڑا دی جائے ۔ پرہیز بہتر ہے ۔​
توصیف یوسف مغل — جون 4، 2016 5:24 صبح
عمدہ
محمد تابش صدیقی — جون 4، 2016 5:50 صبح
راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں
کچھ اور بھٹک لوں میں، حسرت میں نہ مر جاؤں
ہر راہ کا عالم اور، ہر گام پہ سو سو رنگ
سوچا کہ اِدھر جاؤں، چاہا کہ اُدھر جاؤں
کچھ اور کھٹک تھی تب، اب اور کسک سی ہے
مدت ہوئی نکلا تھا، اب جی میں ہے گھر جاؤں
ویرانئِ منزل کا افسانہ ہی کہہ ڈالوں
کوئی تو سبق سیکھے، کچھ کام تو کر جاؤں
میں گردِ سفر بہتر، میں خاک سہی راحیلؔ
وہ بھی تو اڑائے گا، خود کیوں نہ بکھر جاؤں؟
راحیلؔ فاروق
مشمولہ: زار
لاجواب غزل راحیل بھائی. بہت خوب . بہت سی داد
مدت ہوئی نکلا تھا، اب جی میں ہے گھر جاؤں
ہادیہ — جون 4، 2016 5:53 صبح
میں گردِ سفر بہتر، میں خاک سہی راحیلؔ
وہ بھی تو اڑائے گا، خود کیوں نہ بکھر جاؤں؟
امیزنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(y)
کاشف اختر — جون 4، 2016 7:31 صبح
بہت خوب !
مزمل حسین — جون 4، 2016 2:51 شام
لا جواب غزل ہے راحیل بھائی!
راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں
کچھ اور بھٹک لوں میں، حسرت میں نہ مر جاؤں
مطلع کا طلسم تا دیر نہیں اترنے کا۔
ویرانئِ منزل کا افسانہ ہی کہہ ڈالوں
کوئی تو سبق سیکھے، کچھ کام تو کر جاؤں
واہ واہ، ایسے اشعار کہنے کے لئے فصاحت و بلاغت کے سوا مذکورہ کیفیات کو جان پر سہنا بھی لازم ہے۔
آشاعاشئ — جون 4، 2016 6:32 شام
بہت اچھے
آشاعاشئ — جون 4، 2016 6:33 شام
راحیل کی غزل بیت اچھی لگی
ابن رضا — جون 4، 2016 6:38 شام
بہت عمدہ کہا کہنے راحیل صاحب۔
السلام علیکم ۔ ما شاء اللہ ۔ بہت خوب مگر آخری شعر۔
میں گردِ سفر بہتر، میں خاک سہی راحیلؔ
وہ بھی تو اڑائے گا، خود کیوں نہ بکھر جاؤں؟
اس ہندؤں کی تہذیب کی بو ہے ۔ کہ مرنے کے بعد جلا کر راکھ بنا کر اُڑا دی جائے ۔ پرہیز بہتر ہے ۔​
بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں حضرت؟؟ سمجھ سے بہت بالا ہے آپ کی منطق۔
ویسے بالفرضِ محال اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے تو بھی آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ہندو انتن سنسکار کے بعد راکھ کو اڑاتے نہیں ہیں بلکہ گنگا میں بہاتے ہیں
ابن رضا — جون 4، 2016 6:48 شام
ویسے راحیل میاں آپ کی حالیہ ڈی پی مستانہ مرحوم سے بہت ملتی جلتی لگ رہی ہے۔
mastana.jpg
:sneaky: کیا معصومیت ہے
Untitledddd_zpss4druca4.jpg
:eek:
ہادیہ — جون 5، 2016 10:13 صبح
ویسے راحیل میاں آپ کی حالیہ ڈی پی مستانہ مرحوم سے بہت ملتی جلتی لگ رہی ہے۔
mastana.jpg
:sneaky: کیا معصومیت ہے
Untitledddd_zpss4druca4.jpg
:eek:
ہاہاہا
بس سرمے کی کمی ہے باقی فٹ ہے:LOL:
فرقان احمد — جون 5، 2016 10:15 صبح
ہر راہ کا عالم اور، ہر گام پہ سو سو رنگ
سوچا کہ اِدھر جاؤں، چاہا کہ اُدھر جاؤں

میں گردِ سفر بہتر، میں خاک سہی راحیلؔ
وہ بھی تو اڑائے گا، خود کیوں نہ بکھر جاؤں؟

زبردست!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%D9%B9%DA%A9-%D9%84%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA%D8%8C-%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%DB%81-%D9%85%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D8%A4%DA%BA.90253/