کچھ جرم نئے اور مرے نام لگادو

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 27، 2015 6:19 صبح
کچھ جرم نئے اور مرے نام لگا دو
باقی ہے اگر کوئی تو الزام لگا دو
کیوں کرتے ہو دربارِ عدالت کا تکلف
جو حکم لگانا ہے سر ِ عام لگا دو
افسانہ ہمارا ہے ، قلم سارے تمہارے
عنوان جو چاہو بصد آرام لگا دو
دیوانوں کو پابندِ سلاسل نہ کرو تم
ذہنوں میں بس اندیشہء انجام لگادو
جب آہی گئے برسرِ بازار تو کیا شرم
اوروں کی طرح تم بھی مرے دام لگادو
جل اٹھے توجل جائے گا یہ پردہء شب تار
پابندی چراغوں پہ سر ِ شام لگا دو
غیرت ہی نہیں باقی تو بیکار ہیں ہتھیار
مل جائیں خریدار تو نیلام لگا دو
ظہیر احمد ظہیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۲۰۰۹
ٹیگ: فاتح سید عاطف علی محمد تابش صدیقی الف عین
محمد تابش صدیقی — دسمبر 27، 2015 6:52 صبح
بہت عمدہ، پوری غزل ہی لاجواب ہے۔
اور خاص کر اس تخیل کے کیا کہنے
دیوانوں کو پابندِ سلاسل نہ کرو تم
ذہنوں میں بس اندیشہء انجام لگادو
حمیرا عدنان — دسمبر 27، 2015 7:02 صبح
کیوں کرتے ہو دربارِ عدالت کا تکلف
جو حکم لگانا ہے سر ِ عام لگا دو
واہہہہہہ بہت عمدہ
سید عاطف علی — دسمبر 27، 2015 7:09 صبح
واہ بہت اچھے ظہیر بھائی کمال۔۔۔۔۔
دیوانوں والے شعر میں مجھے لگا کہ اندیشہ کا جوڑ کچھ پیوستہ نہیں کہ دیوانگی کو پہنچ جائیں تو سلاسل اور اندیشے بے معنی ہوجاتے ہیں یہاں "افکار" یا تصور یا نظریہ وغیرہ شعر کو ذرا بلند کر تا ۔ تاہم یہ میرا اپنا خیال ہے ۔ ۔ ۔ شعر بلکہ پوری غزل اپنی جگہ بہت حال بہترین ہے۔
فاتح — دسمبر 27، 2015 10:07 صبح
جب آہی گئے برسرِ بازار تو کیا شرم
اوروں کی طرح تم بھی مرے دام لگادو
واہ واہ کیاکہنے جناب۔ ایک اور خوبصورت غزل
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 28، 2015 2:56 صبح
واہ بہت اچھے ظہیر بھائی کمال۔۔۔۔۔
دیوانوں والے شعر میں مجھے لگا کہ اندیشہ کا جوڑ کچھ پیوستہ نہیں کہ دیوانگی کو پہنچ جائیں تو سلاسل اور اندیشے بے معنی ہوجاتے ہیں یہاں "افکار" یا تصور یا نظریہ وغیرہ شعر کو ذرا بلند کر تا ۔ تاہم یہ میرا اپنا خیال ہے ۔ ۔ ۔ شعر بلکہ پوری غزل اپنی جگہ بہت حال بہترین ہے۔
عاطف بھائی ۔ آپ کا نکتہ بجا ہے اور مجھے پسند آیا۔ آپ جس زاویے سے شعر کو دیکھ رہے ہیں اس میں اس طرح کا خیال پیدا ہونا بالکل قابلِ فہم ہے۔ تاہم میرا یہ خیال تھا کہ اس شعرکے سیاق و سباق میں دیوانے کا مطلب سرپھرے سے کچھ زیادہ نہیں بنتا۔ چونکہ عشقِ حقیقی یا مجازی کسی بھی قسم کے تلازمات شعر میں موجود نہیں ہیں اس لئے یہاں دیوانے سے قیس و فرہاد یا منصور وغیرہ کا تصور ذہن میں نہ آئے بلکہ پہلے مصرع میں دیوانوں کو پابندِ سلاسل نہ کرنے کا جو مشورہ (ارباب اختیار) کو دیا جارہا ہے اس کے بعد دیوانے سے مراد سرپھرے ، آشفتہ سر اور صاحبِ اختلاف قسم کے لوگ ہی ہوں گے۔ شاید اس کا پوری طرح ابلاغ نہیں ہوپایا شعر میں۔
عاطف بھائی ۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ نے میری درخواست پر اتنی توجہ اور محبت سے اشعار کو دیکھا ۔ مین توقع کرتاہوں کہ آپ یہ محبت اور عنایت جاری رکھیں گے ۔ خدا آپ کو خوش رکھے۔
سید عاطف علی — دسمبر 28، 2015 11:57 صبح
عاطف بھائی ۔ آپ کا نکتہ بجا ہے اور مجھے پسند آیا۔ آپ جس زاویے سے شعر کو دیکھ رہے ہیں اس میں اس طرح کا خیال پیدا ہونا بالکل قابلِ فہم ہے۔ تاہم میرا یہ خیال تھا کہ اس شعرکے سیاق و سباق میں دیوانے کا مطلب سرپھرے سے کچھ زیادہ نہیں بنتا۔ چونکہ عشقِ حقیقی یا مجازی کسی بھی قسم کے تلازمات شعر میں موجود نہیں ہیں اس لئے یہاں دیوانے سے قیس و فرہاد یا منصور وغیرہ کا تصور ذہن میں نہ آئے بلکہ پہلے مصرع میں دیوانوں کو پابندِ سلاسل نہ کرنے کا جو مشورہ (ارباب اختیار) کو دیا جارہا ہے اس کے بعد دیوانے سے مراد سرپھرے ، آشفتہ سر اور صاحبِ اختلاف قسم کے لوگ ہی ہوں گے۔ شاید اس کا پوری طرح ابلاغ نہیں ہوپایا شعر میں۔
عاطف بھائی ۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ نے میری درخواست پر اتنی توجہ اور محبت سے اشعار کو دیکھا ۔ مین توقع کرتاہوں کہ آپ یہ محبت اور عنایت جاری رکھیں گے ۔ خدا آپ کو خوش رکھے۔
جناب کی محبت اور حسن نظر ہے ۔ورنہ ہر کلام میں جتنی انٹرنسک قوت کشش ہوتی ہے وہ اسی سے پتہ چلتی ہے کہ وہ قاری کی توجہ کس گہرائی سے کھینچتی ہے ۔
سید اسد معروف — دسمبر 29، 2015 9:08 صبح
بہت خوب۔
لاریب مرزا — دسمبر 29، 2015 9:23 صبح
واہ! عمدہ!
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 30، 2015 4:00 صبح

اسد بھائی بہت بہت شکریہ ۔ بہت نوازش
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 30، 2015 4:01 صبح

بہت شکریہ ، نوازش۔ ممنون ہوں ۔
جمیل قادری — دسمبر 30، 2015 4:17 صبح
بہت عمدہ
جاسمن — جولائی 15، 2025 10:14 صبح
عمدہ اشعار۔
ظہیراحمدظہیر — جولائی 17، 2025 6:21 شام
بہت شکریہ ، خواہرم! بہت نوازش!
سولہ برس پرانی غزل یاد دلادی آپ نے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%AC%D8%B1%D9%85-%D9%86%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%AF%D9%88.86701/