کہانی لکھ گیا کوئی کتاب چہرے پر

ظہیراحمدظہیر — ستمبر 12، 2018 9:00 شام
ایک بہت ہی پرانی غزل سرکلر فائل سے آپ کی نذر۔ اس کا سارا عذاب ثواب محمد تابش صدیقی کے ذمے ہے ۔

سجا کے شبنمی آنسو گلاب چہرے پر
کہانی لکھ گیا کوئی کتاب چہرے پر
نظر سے اٹھتا ہے برباد جنتوں کا دھواں
سلگ رہے ہیں ہزاروں عذاب چہرے پر
نگاہیں ساتھ نہیں دیتیں شوخیٔ لب کا
جھلک رہی ہے حقیقت سراب چہرے پر
کہانیاں پسِ پردہ ہزار ہوتی ہیں
طمانیت کا اگر ہو نقاب چہرے پر
مرے مزاج کا رد عمل نہیں شکنیں
رقم ہے عمر ِ رواں کا حساب چہرے پر
ہمیں تو آیا نہ لوگوں سے گفتگو کرنا
سوال دل میں رہے اور جواب چہرے پر
دلوں میں جھانکنا کردے نہ آپ کو بھی دکھی
نگاہیں رکھئے بس اپنی جناب چہرے پر
(۲۰۰۳)
مریم افتخار — ستمبر 13، 2018 2:45 صبح
ہمیشہ کہ طرح بہت خوبصورت کلام محترمی!
ذرا یہ تو بتائیے کہ آپ کو 2003 میں علم ہو گیا تھا کہ 2004 میں فیس بک بننے جا رہی ہے؟ :sneaky:
کہانی لکھ گیا کوئی کتاب چہرے پر
جاسمن — ستمبر 13، 2018 3:30 صبح
ہمیں تو آیا نہ لوگوں سے گفتگو کرنا
سوال دل میں رہے اور جواب چہرے پر
دلوں میں جھانکنا کردے نہ آپ کو بھی دکھی
نگاہیں رکھئے بس اپنی جناب چہرے پر
لاجواب اشعار ہیں۔ کمال غزل ہے۔
دل چاہ رہا ہے کہ کاش منی بیگم، مہدی حسن یا غلام علی نے گائی ہوتی۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 13، 2018 4:08 صبح
ایک بہت ہی پرانی غزل سرکلر فائل سے آپ کی نذر۔ اس کا سارا عذاب ثواب محمد تابش صدیقی کے ذمے ہے ۔
بصد خوشی یہ ذمہ داری قبول کی۔ :)
لاجواب غزل اور کس خوبصورتی سے ردیف نبھائی ہے۔
سجا کے شبنمی آنسو گلاب چہرے پر
کہانی لکھ گیا کوئی کتاب چہرے پر

نگاہیں ساتھ نہیں دیتیں شوخیٔ لب کا
جھلک رہی ہے حقیقت سراب چہرے پر

کہانیاں پسِ پردہ ہزار ہوتی ہیں
طمانیت کا اگر ہو نقاب چہرے پر

ہمیں تو آیا نہ لوگوں سے گفتگو کرنا
سوال دل میں رہے اور جواب چہرے پر

دلوں میں جھانکنا کردے نہ آپ کو بھی دکھی
نگاہیں رکھئے بس اپنی جناب چہرے پر
خالد محمود چوہدری — ستمبر 13، 2018 5:13 صبح
لا جواب، شاندار، خوبصورت ، زبردست بہت عمدہ
عاطف ملک — ستمبر 13، 2018 6:37 صبح
سجا کے شبنمی آنسو گلاب چہرے پر
کہانی لکھ گیا کوئی کتاب چہرے پر
نظر سے اٹھتا ہے برباد جنتوں کا دھواں
سلگ رہے ہیں ہزاروں عذاب چہرے پر
نگاہیں ساتھ نہیں دیتیں شوخیٔ لب کا
جھلک رہی ہے حقیقت سراب چہرے پر
کہانیاں پسِ پردہ ہزار ہوتی ہیں
طمانیت کا اگر ہو نقاب چہرے پر
مرے مزاج کا رد عمل نہیں شکنیں
رقم ہے عمر ِ رواں کا حساب چہرے پر
ہمیں تو آیا نہ لوگوں سے گفتگو کرنا
سوال دل میں رہے اور جواب چہرے پر
دلوں میں جھانکنا کردے نہ آپ کو بھی دکھی
نگاہیں رکھئے بس اپنی جناب چہرے پر
زبردست۔۔۔۔۔چہرہ، میرا مطلب ہے ردیف کتنی پیاری ہے نا:embarrassed1:
اور کتنی عمدگی سے نبھائی ہے۔ہر شعر لاجواب:applause:
اس کا سارا عذاب ثواب محمد تابش صدیقی کے ذمے ہے ۔
ازراہِ تفنن:
ظہیر بھائی نے لکھی ہے چہرے پر، لیکن
غزل کا سارا ثواب و عذاب تابش پر
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 13، 2018 9:34 صبح
ہمیشہ کہ طرح بہت خوبصورت کلام محترمی!
ذرا یہ تو بتائیے کہ آپ کو 2003 میں علم ہو گیا تھا کہ 2004 میں فیس بک بننے جا رہی ہے؟ :sneaky:
ہاہاہاہاہا! بہت خوب!
ویسے ایک دوسال آگے تک کی خبر تو ہمیں چلتے پھرتے ہی ہوجاتی ہے ۔ بس اس سے آگے جاننے کے لئے ذرا لمبا مراقبہ کرنا پڑتا ہے ۔
اور یہ کوئی پہلی دفعہ تھوڑا ہی ہوا ہے کہ ان کرشٹانوں نے اردو شاعری سے آئیڈیا چُرایا ہو ۔ وہ ٹوئٹر والے بھائی ساب نے بھی تو اپنا آئیڈیا اس مصرع سے چرایا تھا:
؎ اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
تفنن برطرف، کتابی چہرے کی معروف ترکیب کی رعایت ہےاس شعر میں جو بسبب پابندیٔ قافیہ ذرا تبدیل ہوگئی ۔ ویسے آپ کی اس بات اور اشارے سے شعر کو ایک اور نئی جہت مل گئی ہے ۔ :):):)
سین خے — ستمبر 14، 2018 8:47 صبح
سجا کے شبنمی آنسو گلاب چہرے پر
کہانی لکھ گیا کوئی کتاب چہرے پر
نظر سے اٹھتا ہے برباد جنتوں کا دھواں
سلگ رہے ہیں ہزاروں عذاب چہرے پر
نگاہیں ساتھ نہیں دیتیں شوخیٔ لب کا
جھلک رہی ہے حقیقت سراب چہرے پر
کہانیاں پسِ پردہ ہزار ہوتی ہیں
طمانیت کا اگر ہو نقاب چہرے پر
مرے مزاج کا رد عمل نہیں شکنیں
رقم ہے عمر ِ رواں کا حساب چہرے پر
ہمیں تو آیا نہ لوگوں سے گفتگو کرنا
سوال دل میں رہے اور جواب چہرے پر
دلوں میں جھانکنا کردے نہ آپ کو بھی دکھی
نگاہیں رکھئے بس اپنی جناب چہرے پر
(۲۰۰۳)

بہت ہی اعلیٰ :) زبردست۔ ایک سے بڑھ کر ایک شعر:)
مریم افتخار — ستمبر 14، 2018 2:13 شام
بہت ہی اعلیٰ :) ذبردست۔ ایک سے بڑھ کر ایک شعر:)
ز بردست :)
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 14، 2018 2:39 شام
بہت خوب صورت غزل۔ بہت سی داد قبول فرمائیے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%84%DA%A9%DA%BE-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92-%D9%BE%D8%B1.103224/