کہتے ہیں لوگ وہ ہرجائی ہے

عظیم — جون 17، 2021 3:35 شام

غزل
کہتے ہیں لوگ وہ ہرجائی ہے
دل جس شخص کا سودائی ہے
کھیل ہی کھیل میں زندگی ہم کو
اس کی گلی تک لے آئی ہے
چھپنے کی بھی نہیں اجازت
شہر میں نکلیں رسوائی ہے
کیا کیا اور تلاشیں خود میں
جب بھی نظر کی، شرم آئی ہے
مجھ ناچیز کو دیکھنا اس کا
سارے دکھوں کی بھرپائی ہے
یہ ہے اس کے ذکر کا جادو
رونی صورت مسکائی ہے
کتنی حسیں لگتی ہے یہ دنیا
حیف کہ ہم نے ٹھکرائی ہے
****​
الف عین — جون 19، 2021 3:51 صبح
اچھی غزل ہے
عظیم — جون 19، 2021 4:36 صبح
جزاک اللہ خیر بابا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%84%D9%88%DA%AF-%D9%88%DB%81-%DB%81%D8%B1%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DB%81%DB%92.116678/