کہتے ہیں یہ حساب لیا ہی نہ جائے گا!

راحیل فاروق — مئی 29، 2016 4:31 شام
اول تو ہم سے حال کہا ہی نہ جائے گا
پر چھیڑ دیں تو تم سے سنا ہی نہ جائے گا
اندیشہ تھا کہ گر نہ پڑوں غم کی راہ میں
معلوم یہ نہ تھا کہ اٹھا ہی نہ جائے گا
دنیا کے سب دکھوں میں اکیلے ہی جی گئے
جیسے ہمارے بعد جیا ہی نہ جائے گا
تم لاکھ دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے پھرو
میں جانتا ہوں مجھ سے رہا ہی نہ جائے گا
راحیلؔ ہم تو یوں بھی نمازی نہیں رہے
کہتے ہیں یہ حساب لیا ہی نہ جائے گا !
راحیلؔ فاروق
12 مئی 2011ء​
یوسف سلطان — مئی 29، 2016 4:43 شام
بہت عمدہ ۔
گلزار خان — مئی 29، 2016 4:44 شام
راحیل بھای کہاں بیٹھ کر لکھتے ہیں ایسی غزلیں آپ بہت ہی شاندار لفظ لفظ گواہی دے رہا ہے :):)
بہت خوب لکھتے ہیں آپ ایک بار پھر سے ہماریداد قبول کیجئے :):)
گلزار خان — مئی 29، 2016 4:46 شام
راحیل بھای کہاں بیٹھ کر لکھتے ہیں ایسی غزلیں آپ بہت ہی شاندار لفظ لفظ گواہی دے رہا ہے :):)
بہت خوب لکھتے ہیں آپ ایک بار پھر سے ہماریداد قبول کیجئے :):)
محمد تابش صدیقی — مئی 29، 2016 4:56 شام
واہ واہ، راحیل بھائی.
اندیشہ تھا کہ گر نہ پڑوں غم کی راہ میں
معلوم یہ نہ تھا کہ اٹھا ہی نہ جائے گا
دنیا کے سب دکھوں میں اکیلے ہی جی گئے
جیسے ہمارے بعد جیا ہی نہ جائے گا
تم لاکھ دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے پھرو
میں جانتا ہوں مجھ سے رہا ہی نہ جائے گا
محمد فہد — مئی 29، 2016 4:58 شام
راحیل بھائی، واقعی میں اپکے الفاظ کا چناؤ بہت ہی زبردست ہے۔۔۔ اورالفاظ کی روانی کی تو بات ہی الگ ہے۔۔۔ میری طرف سے مبارک باد قبول کیجئے۔ ۔۔۔
عباد اللہ — مئی 29، 2016 5:01 شام
ہم لے رہے ہیں کتنی بلائیں نہ پو چھیو
وہ کیف ہے بیان کیا ہی نہ جائے گا
کیسا عجیب حال ہوا پڑھ کے یہ غزل
اب وہ خمار ہے کہ چلا ہی نہ جائے گا​
فاتح — مئی 29، 2016 7:28 شام
واہ واہ راحیل بھائی، ایک اور خوبصورت غزل پر مبارک باد
حسن ترمذی — مئی 29، 2016 7:34 شام
واہ کیا بات ہے راحیل بھائی
بہت ہی خوب
ادب دوست — مئی 29، 2016 8:17 شام
بہت خوب راحیل بھائی اچھی غزل ہے
فرقان احمد — مئی 29، 2016 8:41 شام
اول تو ہم سے حال کہا ہی نہ جائے گا
پر چھیڑ دیں تو تم سے سنا ہی نہ جائے گا

اندیشہ تھا کہ گر نہ پڑوں غم کی راہ میں
معلوم یہ نہ تھا کہ اٹھا ہی نہ جائے گا

تم لاکھ دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے پھرو
میں جانتا ہوں مجھ سے رہا ہی نہ جائے گا

بے پناہ داد!
محمد وارث — مئی 30، 2016 3:51 صبح
خوب غزل ہے جناب، لاجواب۔
الف عین — مئی 30، 2016 6:24 صبح
واہ واہ۔ بہت اچھے۔
لاریب مرزا — مئی 30، 2016 8:53 صبح
بہت خوب!!
کاشف اختر — مئی 30، 2016 10:14 صبح
بہت عمدہ غزل ہے! واہ ماشاء اللہ
حمیرا عدنان — مئی 30، 2016 11:39 صبح
واہ راحیل بھائی ہمیشہ کی طرح عمدہ کہی
نیرنگ خیال — مئی 31، 2016 5:53 صبح
لاجواب راحیل بھائی۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ کیا ہی کہنے۔۔۔ بہت خوبصورت۔
نایاب — مئی 31، 2016 6:12 صبح
واہہہہہہہہہہہ
بلا شبہ بہت خوبصورت غزل
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
جاسمن — جون 3، 2016 3:33 شام
غضب غضب۔
شاندار۔شاندار
واہ۔بہت خوب!
ایک اور خوبصورت غزل۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%8C%DB%81-%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8-%D9%84%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DA%AF%D8%A7.90164/