کیا تشفی بوند سے ہو گی سمندر دیکھ کر

نمرہ — جولائی 19، 2018 8:50 شام
کیا تشفی بوند سے ہو گی سمندر دیکھ کر
کشمکش میں پڑ گئے ہم چشم و ساغر دیکھ کر
بت پرستی عین کعبے میں کوئی کرتا رہا
کوئی لے آیا ہے ایماں دست آذر دیکھ کر
جب زمانے کو پڑھانے سے ذرا فرصت ملی
کچھ پشیماں ہو گئے ہیں اپنے اندر دیکھ کر
اس بلا خیزی سے کس کی سمت جاتا ہے خیال
دل یہ کس کو یاد کرتا ہے سمندر دیکھ کر
قہقہے تھے، زندگی تھی اور آتشدان تھا
ہم ترستے رہ گئے کھڑکی سے منظر دیکھ کر
شائبہ پھر اور ہی ہونے پہ ہوتا ہے ہمیں
یوں نظر انداز کرتے ہیں وہ اکثر دیکھ کر
کھینچنا قدموں تلے سے فرش کا تھا لازمی
پاؤں ہم رکھتے تھے دنیا میں بھی اوپر دیکھ کر
خواہ مخواہ ہی ناز نخروں کے فسانے بن گئے
جبکہ ہم خاموش تھے لوگوں کو برتر دیکھ کر
اس پذیرائی کا ہم کو خود بھی اندازہ نہ تھا
آئے ہیں دیوار و در کتنے ہی بے گھر دیکھ کر
اس کے دروازے پہ پہنچیں گے لیے گر اپنا آپ
پھر پلٹ جائیں گے اس کو بھی میسر دیکھ کر
****
مریم افتخار — جولائی 19، 2018 8:54 شام
پوری غزل ہی بہت خوب ہے اور خصوصی طور پر یہ دو اشعار تو یوں دل پہ لگے جیسے ان کا کام ہی یہ تھا۔ :)
بت پرستی عین کعبے میں کوئی کرتا رہا
کوئی لے آیا ہے ایماں دست آذر دیکھ کر

قہقہے تھے، زندگی تھی اور آتشدان تھا
ہم قناعت کر گئے کھڑکی سے منظر دیکھ کر
نمرہ — جولائی 20، 2018 9:09 شام
خیال آیا کہ خواہ مخواہ کا استعمال غلط ہے یہاں ، تو ایک شعر تبدیل کر دیا۔
یوں ہی اپنے ناز نخروں کے فسانے بن گئے
جبکہ ہم خاموش تھے لوگوں کو برتر دیکھ کر
محمد ریحان قریشی — جولائی 20، 2018 9:19 شام
واہ! بہت خوب۔
اس کے دروازے پہ پہنچیں گے لیے گر اپنا آپ
پھر پلٹ جائیں گے اس کو بھی میسر دیکھ کر
نمرہ — جولائی 20، 2018 9:32 شام
شکریہ مگر سند تو ڈھونڈو کوئی خواہ مخواہ کی۔
قرۃالعین اعوان — جولائی 20، 2018 11:55 شام
جب زمانے کو پڑھانے سے ذرا فرصت ملی
کچھ پشیماں ہو گئے ہیں اپنے اندر دیکھ کر

اس بلا خیزی سے کس کی سمت جاتا ہے خیال
دل یہ کس کو یاد کرتا ہے سمندر دیکھ

کھینچنا قدموں تلے سے فرش کا تھا لازمی
پاؤں ہم رکھتے تھے دنیا میں بھی اوپر دیکھ کر

بہت خوب!
فاتح — جولائی 21، 2018 3:02 صبح
واہ واہ بہت خوب
فہد اشرف — جولائی 21، 2018 3:20 صبح
واہ واہ! کیا خوب غزل ہے
محمد تابش صدیقی — جولائی 21، 2018 3:57 صبح
کیا تشفی بوند سے ہو گی سمندر دیکھ کر
کشمکش میں پڑ گئے ہم چشم و ساغر دیکھ کر
بت پرستی عین کعبے میں کوئی کرتا رہا
کوئی لے آیا ہے ایماں دست آذر دیکھ کر
جب زمانے کو پڑھانے سے ذرا فرصت ملی
کچھ پشیماں ہو گئے ہیں اپنے اندر دیکھ کر
اس بلا خیزی سے کس کی سمت جاتا ہے خیال
دل یہ کس کو یاد کرتا ہے سمندر دیکھ کر
قہقہے تھے، زندگی تھی اور آتشدان تھا
ہم ترستے رہ گئے کھڑکی سے منظر دیکھ کر
شائبہ پھر اور ہی ہونے پہ ہوتا ہے ہمیں
یوں نظر انداز کرتے ہیں وہ اکثر دیکھ کر
کھینچنا قدموں تلے سے فرش کا تھا لازمی
پاؤں ہم رکھتے تھے دنیا میں بھی اوپر دیکھ کر
خواہ مخواہ ہی ناز نخروں کے فسانے بن گئے
جبکہ ہم خاموش تھے لوگوں کو برتر دیکھ کر
اس پذیرائی کا ہم کو خود بھی اندازہ نہ تھا
آئے ہیں دیوار و در کتنے ہی بے گھر دیکھ کر
اس کے دروازے پہ پہنچیں گے لیے گر اپنا آپ
پھر پلٹ جائیں گے اس کو بھی میسر دیکھ کر
****
لاجواب۔
لاریب مرزا — جولائی 21، 2018 4:23 صبح
خوبصورت کلام ہے۔ بہت سی داد آپ کے لیے۔
محمد ریحان قریشی — جولائی 21، 2018 7:59 صبح
شکریہ مگر سند تو ڈھونڈو کوئی خواہ مخواہ کی۔
جیتے جی میرے لینے نہ پاوے تپش بھی دم
اتنی تو سعی تو بھی جگر خواہ مخواہ کر
میر
(یہاں خواہ کا الف دبا دیا گیا ہے۔ یہ تغیر لفظ میں ہے جیسے واہ سے وَہ مگر املا یہی رہنی چاہیے)
محمد ریحان قریشی — جولائی 21، 2018 8:06 صبح
جیتے جی میرے لینے نہ پاوے تپش بھی دم
اتنی تو سعی تو بھی جگر خواہ مخواہ کر
میر
(یہاں خواہ کا الف دبا دیا گیا ہے۔ یہ تغیر لفظ میں ہے جیسے واہ سے وَہ مگر املا یہی رہنی چاہیے)
اگر خواہ کے لیے یہ جائز ہے تو مخواہ کے لیے بھی کوئی ممانعت نہیں ہونی چاہیے۔ یعنی کہ خواہ مخواہ کو فاعلن کے وزن پر باندھنا قابلِ اعتراض نہیں۔
سید عمران — جولائی 21، 2018 8:51 صبح
واہ کیا بات ہے!!!
نمرہ — جولائی 26، 2018 8:16 شام
جیتے جی میرے لینے نہ پاوے تپش بھی دم
اتنی تو سعی تو بھی جگر خواہ مخواہ کر
میر
(یہاں خواہ کا الف دبا دیا گیا ہے۔ یہ تغیر لفظ میں ہے جیسے واہ سے وَہ مگر املا یہی رہنی چاہیے)

میر کی پوری غزل پڑھ کر مجھے شک پڑتا ہے کہ لفظ خوامخواہ ہے، فاعلات کے وزن پر۔ نوراللغات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔
محمد بلال اعظم — جولائی 26، 2018 8:22 شام
اس بلا خیزی سے کس کی سمت جاتا ہے خیال
دل یہ کس کو یاد کرتا ہے سمندر دیکھ کر

قہقہے تھے، زندگی تھی اور آتشدان تھا
ہم ترستے رہ گئے کھڑکی سے منظر دیکھ کر

واہ واہ
کیا ہی اچھے اشعار ہیں! بہت داد
:):):)
نمرہ — جولائی 26، 2018 8:23 شام
واہ واہ
کیا ہی اچھے اشعار ہیں! بہت داد
:):):)
شکریہ بلال۔ اپنی شاعری بھی شریک کیجیے یہاں :)
محمد بلال اعظم — جولائی 26، 2018 8:32 شام
شکریہ بلال۔ اپنی شاعری بھی شریک کیجیے یہاں :)
جی ضرور :)
میں ڈھونڈتا ہوں کچھ۔
محمد ریحان قریشی — جولائی 26، 2018 8:35 شام
میر کی پوری غزل پڑھ کر مجھے شک پڑتا ہے کہ لفظ خوامخواہ ہے، فاعلات کے وزن پر۔ نوراللغات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔
معنی خواه مخواه | لغت‌نامه دهخدا
اصل لفظ تو خواہ مخواہ ہی ہے۔
نمرہ — جولائی 26، 2018 8:46 شام
ٹھیک ہے ، نوراللغات میں بھی کہنا یہی ہے کہ اسے غلط طور پر خوامخواہ لکھا جاتا ہے۔ وزن مگر فاعلات ہی لگتا ہے اس کا میر کی غزل سے۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 8، 2018 5:23 صبح
واہ ! اچھے اشعار ہیں ! بہت خوب!
خواہ مخواہ کا تلفظ خامخاہ کیا جاتا ہے ۔ سو اس کا اصل وزن فاعلات ہی ہے ۔ اس کےآخر سے ہ کو گرانا ٹھیک نہیں ۔ میر کے شعر میں بھی فاعلات ہی باندھا گیا ہے ۔مشہور مزاحیہ شاعر خوامخواہ حیدرآبادی بھی اپنے تخلص کو اسی وزن پر باندھتے تھے ۔
آپ نے آزر کا املا آذر لکھا ہے جو ایک بالکل ہی مختلف لفظ ہے اور یہاں اس کا محل نہیں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%D8%B4%D9%81%DB%8C-%D8%A8%D9%88%D9%86%D8%AF-%D8%B3%DB%92-%DB%81%D9%88-%DA%AF%DB%8C-%D8%B3%D9%85%D9%86%D8%AF%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE-%DA%A9%D8%B1.102369/