کیسی دوری ہے کہ بس جاں سے قریں رہتی ہے

محمد ریحان قریشی — ستمبر 27، 2020 7:08 شام
کیسی دوری ہے کہ بس جاں سے قریں رہتی ہے
تذکرہ میرا، مری بات کہیں رہتی ہے
کس کی خاموش نواؤں پہ فدا ہے عالم؟
آسماں رقص میں گردش میں زمیں رہتی ہے
رونقِ بزمِ خیال اپنی جگہ ہے لیکن
دل میں خلوت سی کوئی گوشہ نشیں رہتی ہے
کم نہیں فضل جو سجدے میں گراتا ہے اسے
سجدۂ شکر میں ساجد کی جبیں رہتی ہے
طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو
یاد پڑتا ہے تری یاد وہیں رہتی ہے
موت کا خوف تو ہے موت کے آ جانے تک
موت بس تا نفسِ باز پسیں رہتی ہے
فکر کی لوح پہ لکھتا ہوں جو لکھنا چاہوں
کائنات ایک مرے زیرِ نگیں رہتی ہے
صابرہ امین — ستمبر 27، 2020 8:01 شام
کم نہیں فضل جو سجدے میں گراتا ہے اسے
سجدۂ شکر میں ساجد کی جبیں رہتی ہے
طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو
یاد پڑتا ہے تری یاد وہیں رہتی ہے
بہت خوب ۔ ۔ عمدہ خیالات ۔ ۔
سید عاطف علی — ستمبر 27، 2020 8:52 شام
طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ خائے مجھ کو
واہ ۔طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو۔۔۔ اچھی غزل ہے ۔
لیکن جائے کو خائے لکھ دیا ۔
محمد ریحان قریشی — ستمبر 27، 2020 8:54 شام
بہت خوب ۔ ۔ عمدہ خیالات ۔ ۔
بہت شکریہ۔
واہ ۔طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو۔۔۔ اچھی غزل ہے ۔
لیکن جائے کو خائے لکھ دیا ۔
نوازش جناب۔ نشاندہی پر ممنون ہوں۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 27، 2020 11:57 شام
واہ ! بہت خوب ریحان بھائی ۔ اچھی غزل ہے!
طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو
یاد پڑتا ہے تری یاد وہیں رہتی ہے
کیا بات ہے! کیا سلیقے سے کہا ہے ! بہت خوب!
محمد وارث — ستمبر 28، 2020 6:24 صبح
عمدہ غزل ہے قریشی صاحب، آپ کی شاعری ماشاءاللہ نکھرتی جا رہی ہے۔
محمد ریحان قریشی — ستمبر 28، 2020 6:57 صبح
واہ ! بہت خوب ریحان بھائی ۔ اچھی غزل ہے!
طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو
یاد پڑتا ہے تری یاد وہیں رہتی ہے
کیا بات ہے! کیا سلیقے سے کہا ہے ! بہت خوب!
حوصلہ افزائی پر بہت شکرگزار ہوں ظہیر بھائی۔
عمدہ غزل ہے قریشی صاحب، آپ کی شاعری ماشاءاللہ نکھرتی جا رہی ہے۔
سپاسگزار ہوں وارث صاحب۔
عاطف ملک — ستمبر 28، 2020 7:12 صبح
طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو
یاد پڑتا ہے تری یاد وہیں رہتی ہے
واہ۔۔۔۔ماشااللہ
بہت خوب ریحان بھائی
عمدہ غزل ہے
داد قبول کیجیے
نور وجدان — اکتوبر 2، 2020 3:40 شام
عمدہ
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 2، 2020 3:42 شام
کیسی دوری ہے کہ بس جاں سے قریں رہتی ہے
تذکرہ میرا، مری بات کہیں رہتی ہے
کس کی خاموش نواؤں پہ فدا ہے عالم؟
آسماں رقص میں گردش میں زمیں رہتی ہے
رونقِ بزمِ خیال اپنی جگہ ہے لیکن
دل میں خلوت سی کوئی گوشہ نشیں رہتی ہے
کم نہیں فضل جو سجدے میں گراتا ہے اسے
سجدۂ شکر میں ساجد کی جبیں رہتی ہے
طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو
یاد پڑتا ہے تری یاد وہیں رہتی ہے
موت کا خوف تو ہے موت کے آ جانے تک
موت بس تا نفسِ باز پسیں رہتی ہے
فکر کی لوح پہ لکھتا ہوں جو لکھنا چاہوں
کائنات ایک مرے زیرِ نگیں رہتی ہے
واہ۔ لاجواب ریحان بھائی
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 2، 2020 3:49 شام
واہ۔ لاجواب ریحان بھائی
حوصلہ افزائی پر بہت شکرگزار ہوں۔
احمد محمد — اکتوبر 2، 2020 4:11 شام
واہ۔۔ نہایت عمدہ جناب
محمد عبدالرؤوف — اکتوبر 2، 2020 4:28 شام
بہت خوب جناب، بہترین خیال اور نہایت عمدہ طرزِ بیاں
فرحان محمد خان — اکتوبر 3، 2020 3:16 شام
سبحان اللہ کیا ہے عمدہ غزل ہے واہ
الف عین — اکتوبر 4، 2020 5:57 صبح
واہ ماشاء اللہ کیا غزل کہی ہے!
احمد وصال — اکتوبر 13، 2020 8:24 صبح
ماشاءاللہ۔۔
بہت عمدہ غزل
La Alma — اکتوبر 14، 2020 3:47 شام
بہترین!
فکر کی لوح پہ لکھتا ہوں جو لکھنا چاہوں
کائنات ایک مرے زیرِ نگیں رہتی ہے
حاصل کلام
بابا-جی — اکتوبر 14، 2020 3:54 شام
کس کی خاموش نواؤں پہ فدا ہے عالم؟
آسماں رقص میں گردش میں زمیں رہتی ہے
مُجھے یہ شعر بہت پسند آیا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%D8%AF%D9%88%D8%B1%DB%8C-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81-%D8%A8%D8%B3-%D8%AC%D8%A7%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D9%82%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92.113349/