نوید ناظم — جون 13، 2022 10:37 صبح
کیوں اُس کو سمجھ میں یہ اشارے نہیں آتے
گر خُشک ہوں تالاب، پرندے نہیں آتے
سج دھج کے مِرے دل میں اُترتے ہو سرِ شام
ویران گھروں میں کبھی ایسے نہیں آتے!
اک ساتھ سبھی کچھ تو نہیں ملتا یہاں پر
پھل آئیں جو حِصّے میں تو سائے نہیں آتے
تاریخ نے بھی زور محبت پہ دیا ہے
یہ بات الگ مجھ کو حوالے نہیں آتے
بس کِھینچ کے لاتے ہیں تِرے کوچے سے خود کو
ہم تیری گلی سے کبھی چل کے نہیں آتے
یہ عشق جوانی کو نِگل جاتا ہے ورنہ
اس عُمر کے گھر سے جنازے نہیں آتے
اک بار پکاروں گا ضرور اُن کو نوید اب
کیا اِس سے غرض مجھ کو وہ آتے نہیں آتے
(نوید ناظم وٹو)
یاسر شاہ — جون 26، 2022 1:47 صبح
بہت خوب۔اچھی غزل ہے ما شاءاللہ
اس عُمر کے گھر سے جنازے نہیں آتے
یہاں دیکھ لیں کوئی لفظ ٹائپ سےرہ گیاہو شاید
عرفان علوی — جون 26، 2022 4:18 شام
کیوں اُس کو سمجھ میں یہ اشارے نہیں آتے
گر خُشک ہوں تالاب، پرندے نہیں آتے
سج دھج کے مِرے دل میں اُترتے ہو سرِ شام
ویران گھروں میں کبھی ایسے نہیں آتے!
اک ساتھ سبھی کچھ تو نہیں ملتا یہاں پر
پھل آئیں جو حِصّے میں تو سائے نہیں آتے
تاریخ نے بھی زور محبت پہ دیا ہے
یہ بات الگ مجھ کو حوالے نہیں آتے
بس کِھینچ کے لاتے ہیں تِرے کوچے سے خود کو
ہم تیری گلی سے کبھی چل کے نہیں آتے
یہ عشق جوانی کو نِگل جاتا ہے ورنہ
اس عُمر کے گھر سے جنازے نہیں آتے
اک بار پکاروں گا ضرور اُن کو نوید اب
کیا اِس سے غرض مجھ کو وہ آتے نہیں آتے
(نوید ناظم وٹو)
نوید صاحب ! اچھی غزل ہے ، ماشاء اللہ . داد حاضر ہے .
ایس ایس ساگر — جون 26، 2022 5:10 شام
ماشاءاللہ۔ عمدہ غزل کہی ہے آپ نے
نوید ناظم بھائی۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے۔
سلامت رہیں۔ آمین۔
نوید ناظم — جون 28، 2022 8:02 صبح
بہت خوب۔اچھی غزل ہے ما شاءاللہ
یہاں دیکھ لیں کوئی لفظ ٹائپ سےرہ گیاہو شاید
جی بہت شکریہ، "یوں" ٹائپنگ میں رہ گیا۔
نوید ناظم — جون 28، 2022 8:03 صبح
ماشاءاللہ۔ عمدہ غزل کہی ہے آپ نے
نوید ناظم بھائی۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے۔
سلامت رہیں۔ آمین۔
جی بڑی نوازش!!!
نوید ناظم — جون 28، 2022 8:04 صبح
نوید صاحب ! اچھی غزل ہے ، ماشاء اللہ . داد حاضر ہے .
بڑی مہربانی عرفان صاحب۔
محمد خلیل الرحمٰن — جون 28، 2022 9:25 صبح
کیوں اُس کو سمجھ میں یہ اشارے نہیں آتے
گر خُشک ہوں تالاب، پرندے نہیں آتے
سج دھج کے مِرے دل میں اُترتے ہو سرِ شام
ویران گھروں میں کبھی ایسے نہیں آتے!
اک ساتھ سبھی کچھ تو نہیں ملتا یہاں پر
پھل آئیں جو حِصّے میں تو سائے نہیں آتے
تاریخ نے بھی زور محبت پہ دیا ہے
یہ بات الگ مجھ کو حوالے نہیں آتے
بس کِھینچ کے لاتے ہیں تِرے کوچے سے خود کو
ہم تیری گلی سے کبھی چل کے نہیں آتے
یہ عشق جوانی کو نِگل جاتا ہے ورنہ
اس عُمر کے گھر سے جنازے نہیں آتے
اک بار پکاروں گا ضرور اُن کو نوید اب
کیا اِس سے غرض مجھ کو وہ آتے نہیں آتے
(نوید ناظم وٹو)
خوب صورت!
نوید ناظم — جون 29، 2022 4:04 شام
یہ آپ کی شفقت۔۔۔ بہت شکریہ۔