محمد حفیظ الرحمٰن — مارچ 15، 2021 4:52 صبح
غزل
محمد حفیظ الرحمٰن
کیوں بھلا ایسے در بدر ہوتے
ہم کسی کام کے اگر ہوتے
جو گزرتے تمہارے ساتھ وہ دن
جیسے فردوس میں بسر ہوتے
کاش اِس راہ سے گزرتے تٰم
اور ہم گردِ رہ گزر ہوتے
زیر ہو بھی گئے تو کیا، کہ انہیں
دیر لگتی نہیں زبر ہوتے
سحر کو سامنے دعاؤں کے
ہم نے دیکھا ہے بے اثر ہوتے
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 15، 2021 4:55 صبح
خوبصورت غزل!
کاش اِس راہ سے گزرتے تٰم
اور ہم گردِ رہ گزر ہوتے
واہ!
Pervez Baqi — مارچ 15، 2021 3:42 شام
اس بار حفیظ صاحب نے چھوٹی بحر میں طبع آزمائی کی ہے اور کیا خوبصورت غزل کہی ہے کہ ہر شعر سادگی اور پرُکاری کی مثال ہے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 16، 2021 6:46 صبح
ماشاء اللہ ۔۔۔ خوب غزل ہے جناب حفیظ صاحب ۔۔۔ مزا آیا پڑھ کر
امین شارق — مارچ 16، 2021 1:11 شام
غزل
محمد حفیظ الرحمٰن
کیوں بھلا ایسے در بدر ہوتے
ہم کسی کام کے اگر ہوتے
جو گزرتے تمہارے ساتھ وہ دن
جیسے فردوس میں بسر ہوتے
کاش اِس راہ سے گزرتے تٰم
اور ہم گردِ رہ گزر ہوتے
زیر ہو بھی گئے تو کیا، کہ انہیں
دیر لگتی نہیں زبر ہوتے
سحر کو سامنے دعاؤں کے
ہم نے دیکھا ہے بے اثر ہوتے
خوبصورت غزل۔
مختصر اچھی غزل ہے مگر مزہ آتا
چند اشعار اور اگر ہوتے
ظہیراحمدظہیر — مارچ 20، 2021 6:29 صبح
واہ! بہت خوب! اچھے اشعار ہیں حفیظ الرحمٰن بھائی!
امید ہے کہ کلام عنایت کرتے رہیں گے۔
سید عاطف علی — مارچ 20، 2021 9:10 صبح
کاش اِس راہ سے گزرتے تٰم
اور ہم گردِ رہ گزر ہوتے
واہ خوب ،
محمد شکیل خورشید — اپریل 6، 2021 8:26 صبح
بہت ہی خوب ماشا اللہ،