گام گام خواہشیں
نا تمام خواہشیں
ہر خوشی کی موت ہیں
بے لگام خواہشیں
لے ہی آئیں آخرش
زیرِ دام خواہشیں
ہوش میں نہیں ہوں میں
صبح و شام خواہشیں
کاٹتی ہیں روح کو
بے نیام خواہشیں
عمران شناور
وارث صاحب! غزل پسند فرمانے اور نشاندہی فرمانے کے لیےبہت شکریہ! ٹھیک کر دیا ہے!
اعجاز عبید صاحب! آپ کی محبتوں کا مقروض ہوں! بہت شکریہ
بہت شکریہ م۔م۔مغل صاحب! آپ کی محبت ہے شناور اس قابل کہاں !
کاشفی صاحب! بہت بہت شکریہ! خوش رہیے
محمود مغل صاحب! خوش رہیے۔ انشاءاللہ پوری کوشش کروں گا! دعاؤں میں یاد رکھیے