گرمئ شہر ِ ضرورت سے پگھل جاؤ گے

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 30، 2015 6:09 صبح
گرمئ شہر ِ ضرورت سے پگھل جاؤ گے
نہیں بدلے ہو ابھی تک تو بدل جاؤ گے
اس چمکتے ہوئے دن کو نہ سمجھنا محفوظ
اپنے سائے سے بھی نکلو گے تو جل جاؤ گے
گردش ِ وقت ہے آتی ہے سبھی کے سر پر
وقت گزرے گا تو اس سے بھی نکل جاؤ گے
یہ محبت کے مقامات ہیں اے جان ِ نظر
اتنا محتاط چلو گے تو پھسل جاؤ گے
اپنی تابش کو زمینوں سے نہ کرنا مشروط
ورنہ سورج کی طرح شام کو ڈھل جاؤ گے
گر رہا ہوں میں مسلسل ہی ،مگر جانے کیوں
کوئی اندر سے یہ کہتا ہے سنبھل جاؤ گے
تھام کر ہاتھ چلو تم بھی ظہیر اپنوں کا
ورنہ اِس بھیڑ میں غیروں سے بدل جاؤ گے
ظہیراحمدظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۳
ٹیگ: سید عاطف علی کاشف اختر محمد تابش صدیقی فاتح
محمد تابش صدیقی — دسمبر 30، 2015 6:18 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی، کیا اسلوبِ بیان ہے۔
اپنی تابش کو زمینوں سے نہ کرنا مشروط
ورنہ سورج کی طرح شام کو ڈھل جاؤ گے
مجھے دستخطی شعر فراہم کرنے پر بہت شکریہ :)
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 30، 2015 6:21 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی، کیا اسلوبِ بیان ہے۔
مجھے دستخطی شعر فراہم کرنے پر بہت شکریہ :)
ہا ہا ہا ہاہ ۔۔۔۔ بہت خوب!!! :):):):):):):):):)
حمیرا عدنان — دسمبر 30، 2015 6:41 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی
فاتح — دسمبر 30، 2015 1:50 شام
اپنے سائے سے بھی نکلو گے تو جل جاؤ گے
واہ بہت مبارک باد
کاشف اختر — دسمبر 30، 2015 5:19 شام
اتنا محتاط چلو گے تو پھسل جاؤ گے
بہت خوب! واہ واہ واہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%AF%D8%B1%D9%85%D8%A6-%D8%B4%DB%81%D8%B1-%D9%90-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D9%BE%DA%AF%DA%BE%D9%84-%D8%AC%D8%A7%D8%A4-%DA%AF%DB%92.86784/